کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 809
فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے، آپ کے ساتھ ابوبکر، عمر اور عثمانرضی اللہ عنہم بھی تھے، پہاڑ ہلنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا پاؤں مارا اور کہا: (( أُ ثْبُتْ اُحُدُ فَاِنَّمَا عَلَیْکَ نَبِیٌّ وَصِدِّیْقٌ وَشَہِیْدَانِ۔)) [1] ’’اے احد پہاڑ! تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید کھڑے ہیں۔‘‘ ۱: ۲۳ ھ میں زندگی کے آخری حج سے واپسی پر دعا: سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ جب منیٰ سے روانہ ہوئے تو ابطح میں اپنا اونٹ بٹھایا اور سنگریزے جمع کر کے ایک چبوترہ بنایا اور اس پر اپنی چادر کا کنارہ ڈال دیا، پھر اس پر لیٹ گئے اور آسمان کی طرف دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے لگے: ’’اے اللہ! میں بوڑھا ہو چکا ہوں، قوتیں جواب دے رہی ہیں، رعایا روئے زمین پر پھیل چکی ہے، تو مجھے اب اٹھا لے، درآنحالانکہ میرا دامن عجز و ملامت سے پاک ہو۔‘‘ پھر آپ مدینہ تشریف لائے۔[2] ۲: شوق شہادت: زید بن اسلم اپنے باپ سے اور وہ عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے دعا کی: ’’اے اللہ! تو اپنے دین کی خاطر اپنے نبی کے شہر میں شہادت کی موت عطا فرما۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے کہ: ’’اے اللہ! میری روح اس حالت میں پرواز کرے کہ تیرے راستے میں ہوں اور تیرے نبی کے شہر میں ہوں۔‘‘ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ’’پتہ نہیں میری یہ مراد کب پوری ہوگی؟‘‘ پھر کہتے: ’’جب اللہ چاہے گا مجھے ایسی ہی موت دے گا۔‘‘[3] یوسف بن حسین بن عبدالہادی ان روایات کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ ’’شہادت کی تمنا کرنا مستحب ہے، اسے موت کی تمنا کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن اگر کوئی اعتراض کرے کہ جب موت کی تمنا کرنا شرعاً حرام ہے تو پھر یہاں دونوں موتوں میں کیا فرق ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ موت کی تمنا کا مطلب ہے کہ وقت سے قبل موت کو جلدی طلب کرنا ناجائز اور حرام ہے، کیونکہ انسان کی درازی عمر اسے بھلائی کا موقع دیتی ہے اور شہادت کی تمنا قبل از وقت نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ عمر کے خاتمہ کے وقت شہادت نصیب ہو۔ گویا طلب شہادت میں وقت سے قبل موت کی طلب نہیں ہوتی بلکہ موت کے وقت شہادت کی فضیلت مطلوب ہوتی ہے۔‘‘[4] [1] صحیح البخاری مع الفتح، الفتن، حدیث نمبر۷۰۹۶۔ [2] الخلفاء الراشدون، خالدی، ص:۷۹۔