کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 808
’’آدمی گھر بار، مال و دولت، اپنے اہل وعیال، پڑوسی اور اپنی ذات سے متعلق جس فتنہ میں گرفتار ہوتا ہے اس کے لیے نماز، روزہ، صدقات وخیرات اور امر بالمعروف (بھلائیوں کا حکم دینا) و نہی عن المنکر (برائیوں سے روکنا) کفارہ بن جاتے ہیں۔‘‘ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں یہ (چھوٹے چھوٹے) فتنے نہیں پوچھتا بلکہ ان فتنوں کے بارے میں پوچھتا ہوں جو سمندر کی موجوں کی طرح ٹھاٹھیں مار رہے ہوں گے۔ میں نے کہا: اے امیرالمومنین! آپ کو ان فتنوں سے کیا خوف ہے؟ آپ کے اور ان فتنوں کے درمیان تو ایک بند دروازہ ہے۔ آپ نے پوچھا: بھلا یہ دروازہ توڑ ڈالا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ میں نے کہا: نہیں، بلکہ توڑ ڈالا جائے گا۔ آپ نے فرمایا: پھر تو وہ دروازہ کبھی بند نہ ہوگا؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے راوی ابووائل کہتے ہیں، میں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا عمر رضی اللہ عنہ اس دروازے کو جانتے تھے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، ایسے ہی جیسا کہ یقین ہے کہ آج کی رات کل کے دن سے پہلے ہے۔ (یقین کی وجہ یہ ہے کہ) میں نے ان سے ایک حدیث بیان کی تھی جو اٹکل پچو نہ تھی۔ ابووائل کہتے ہیں کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ پوچھنے میں ہم ڈرے کہ وہ دروازہ کون تھا، اس لیے ہم نے مسروق سے کہا کہ تم پوچھو۔ چنانچہ مسروق نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ دروازہ خود عمر رضی اللہ عنہ تھے۔[1] اس حدیث میں حذیفہ رضی اللہ عنہ ، عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اطلاع دے رہے ہیں کہ آپ ہی وہ بند دروازہ ہیں جو مسلمانوں کو فتنوں کے تھپیڑوں سے بچاتا ہے اور یہ دروازہ عنقریب توڑ ڈالا جائے گا، اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پھر قیامت تک یہ دروازہ بند نہ ہوگا، اور یہی عمر رضی اللہ عنہ نے سمجھا بھی تھا کہ اب مختلف قسم کے فتنے مسلمانوں میں منتشر ہوں گے، فتنوں کے ان طوفانوں کو یکسر مٹا دینا تو دور کی بات ہے کچھ عرصہ کے لیے بھی ان پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ کی یہ بات من مانی نہ تھی اور نہ یہ ان کے ذاتی اندیشے تھے، بلکہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا تھا اور جس طرح سنا تھا اسی طرح اسے یاد رکھا تھا۔ اسی لیے عمر رضی اللہ عنہ سے اپنی گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا: ’’میں نے ان سے ایک حدیث بیان کی تھی جو اٹکل پچو نہ تھی، یعنی صحیح اور سچی حدیث تھی، اس میں غلط بیانی اور جھوٹ کا شائبہ تک نہیں تھا۔ اس لیے کہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارکہ سے سنا تھا۔‘‘ دوسری طرف سیّدناعمر رضی اللہ عنہ بھی حذیفہ رضی اللہ عنہ کی اس صدق بیانی کی حقیقت جانتے تھے، آپ کو بخوبی اندازہ تھا کہ میری خلافت ایک آہنی دروازہ ہے جو مسلمانوں کو فتنوں کے تھپیڑوں سے بچاتا ہے اور جب تک میری خلافت اور میری زندگی ہے فتنے مسلمانوں پر حملہ آور نہیں ہو سکتے۔[2] بزبان رسالت آپ نے اپنے متعلق یہ پیشین گوئی سن لی تھی کہ آپ قتل کیے جائیں گے اور شہید بن کر اللہ سے ملاقات کریں گے۔ چنانچہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ [1] الخلیفۃ الفاروق عمر بن خطاب، العانی، ص:۱۵۱۔ [2] الخلفاء الراشدون، خالدی، ص:۷۷۔