کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 806
چلے جائیں گے۔[1] ۵: کامل، متوازن اور نظم و نسق سے بھرپور ربانی تہذیب کو دنیا میں نمایاں حیثیت ملی، ایسی تہذیب جس نے شریعت ربانی کو اوّلیت دیتے ہوئے تمام اقوام اور امتوں کے جذبات و احساسات کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔ نظام الٰہی اور شرعی احکام کی پابندی کی شرط پر بلا امتیاز رنگ ونسل دنیا کے تمام انسانوں کو اپنی رکنیت میں جگہ دی۔ اس طرح عمر فاروق رضی اللہ عنہ انسانی تہذیب کے کارواں کے مثالی قائد بن کر دنیا کے سامنے آئے۔ آپ کی یہ قیادت ہمارے سامنے ایک ایسے انسان کے درخشندہ کارناموں کی تصویر کشی کرتی ہے جو قوی تھا، مومن تھا اور اسلامی شریعت کا عالم تھا، جس نے اللہ کی شریعت کو تقویت دینے، اس کے دین کو غالب کرنے، انسانوں کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف لانے، انہیں دولت وانسانوں کی پرستش سے نکال کر اللہ کی عبادت کی طرف بلانے، انسانیت کی خدمت کرنے اور اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر اپنی حکومت، فوج، رعایا، تجربات اور تمام تر وسائل واسباب کو میدان عمل میں جھونک دیا اور اس فرمان الٰہی کی دنیا میں سچی تصویر قائم کر دی: الَّذِينَ إِنْ مَكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَللّٰهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ (41) (الحج: ۴۱) ’’وہ لوگ کہ اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے اور اچھے کام کا حکم دیں گے اور برے کام سے روکیں گے، اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضہ میں ہے۔‘‘ اسلامی فتوحات نے دین اسلام کے سائے میں ایک اعلیٰ انسانی تہذیب کو جنم دیا، وہ تہذیب جسے ہم تہذیب ربانی کہتے ہیں اور اس کی تعریف ہم یوں کر سکتے ہیں کہ زندگی، کائنات اور انسان کے بارے میں اسلامی نظریہ کو سامنے رکھ کر ہر دور میں روئے زمین پر اللہ کی حکومت باقی رکھنے کے لیے تمام تر انسانی سرگرمیوں کو ایک کے ماتحت متحرک بنانے کا نام ربانی تہذیب ہے۔[2]  [1] تاریخ الطبری: ۵/۲۵۹، أشہر مشاہیر الإسلام: ۲/۳۵۹۔