کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 790
۴: مال غنیمت تقسیم ہوتے وقت امیر کی تقسیم پر راضی رہنا: تقسیم غنائم سے متعلق سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اے اللہ میں اسلامی شہروں کے امراء پر تجھے گواہ بناتا ہوں، میں نے انہیں اس لیے امیر بنا کر بھیجا ہے تاکہ انہیں دین کی باتیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتیں سکھائیں، مال غنیمت تقسیم کریں اور رعایا میں انصاف کریں اور اگر کسی کو کسی مسئلہ میں پیچیدگی درپیش ہو تو میری طرف رجوع کریں۔‘‘[1] چنانچہ فتح ’’ابلہ‘‘ کے موقع پر جب مجاہدین کے درمیان مال غنیمت تقسیم ہو چکا تو ایک نزاعی صورت پیش آئی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک مجاہد کو غنیمت میں پیتل کی ایک دیگچی ملی، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ وہ سونے کی ہے، دیگر سپاہیوں کو بھی اس کی خبر معلوم ہوئی اور سب نے امیر لشکر کو اس کی اطلاع دی۔[2] امیر لشکر کے لیے یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہوگیا کہ اب کیا کریں۔ چنانچہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو اس سلسلے میں خط لکھا تو امیرالمومنین کی طرف سے خط کا جواب یہ آیا کہ ان سے اس بات کی قسم لو کہ دیگچی پیتل سمجھ کر لی تھی، اگر وہ قسم کھا لیں تو انہیں دے دو اور اگر انکار کریں تو ان سے زبردستی لے لو اور مسلمانوں میں تقسیم کر دو، پھر انہوں نے قسم کھا لی اور دیگچی ان کے سپرد کر دی گئی۔[3] اسی طرح معرکہ جلولا ء فتح ہونے کے بعد جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہما نے اپنے اور اپنی قوم کے لیے مال غنیمت میں سے ایک چوتھائی (_) کا مطالبہ کیا (جو انہیں عراق میں مثنیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ لڑنے کے عوض خصوصی طور پر دیا جاتا تھا) سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں عمر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا،تو آپ نے جواب دیا: جریر سچ کہہ رہے ہیں، میں نے ان سے یہ بات کہی تھی، اگر انہوں نے اور ان کی قوم کے لوگوں نے اس نیت سے جنگ لڑی ہے کہ انہیں تالیف قلب والوں کے زمرے میں شامل رکھا جائے تو ان کا مطالبہ پورا کر دو اور اگر اللہ کی رضا جوئی اور دین اسلام کی سربلندی کی خاطر لڑائی کی ہے تو ان کے لیے عام مسلمانوں کا حکم ہے۔ جو حقوق تمام مسلمانوں کے ہیں وہی ان کے ہیں اور جو پابندیاں سب پر ہیں وہی ان پر ہیں۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس جب خط پہنچا تو آپ نے جریر رضی اللہ عنہ کو پڑھ کر سنایا۔ جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: امیرالمومنین نے سچ کہا اور اپنا وعدہ پورا کیا، اب ہمیں چوتھائی کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ہم تمام مسلمانوں کی طرح ہیں۔[4] فوج کے حقوق: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کی توجیہات، خطوط اور نصائح میں ہمیں فوج کے چند اہم حقوق دیکھنے کو ملتے ہیں، ان کا بیان اس طرح ہے: [1] الأحکام السلطانیہ ص: ۴۸۔ [2] الإدارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الإسلامیۃ نشأتہا وریحہورہا: ۱؍۱۰۰۔ [3] الإدارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الإسلامیۃ نشاتھا وتطورہا۔ (۱/۱۰۰) [4] الإدارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الإسلامیۃ نشاتھا وتطورہا۔ (۱/۱۱۳) [5] الإدارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الإسلامیۃ نشاتھا وتطورہا۔ (۱/۱۱۴)