کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 785
دریافت کیا: وہ کون ہے اے امیرالمومنین؟ آپ نے فرمایا: نعمان بن مقرن مزنی۔ لوگوں نے کہا: ہاں، وہی اس کے مستحق ہیں۔[1] ۴: قائد دور اندیش، ذہین اور تجربہ کار ہو: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ ’’تمہارے لیے مجھ پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ تمہیں ہلاکت میں نہ ڈالوں اور نہ تمہیں تمہاری سرحدوں سے روکوں۔‘‘[2]معرکہ اجنادین میں جس وقت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنی فوج لے کر پہنچے اس وقت ارطبون رومیوں کی قیادت کر رہا تھا، وہ ان میں سب سے بڑا دور اندیش، سخت جنگجو، خطرناک اور پہلوان مانا جاتا تھا۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے وہاں پہنچ کر ایلیا اور رملہ کے علاقے میں اپنی افواج پھیلا دیں اور عمر رضی اللہ عنہ کو صورت حال کی خبر لکھ بھیجی۔ اس وقت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف سے جو خط آیا تھا اس میں آپ نے لکھا تھا: ’’میں نے روم کے ارطبون سے عرب کے ارطبون کو ٹکرا دیا ہے، اب دیکھو آگے کیا ہوتا ہے۔‘‘[3] اور جب عمرو رضی اللہ عنہ نے ارطبون اور اس کے لشکر کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کا ارادہ کیا تا کہ اس کے مقابلے اور اس پر فتح پانے کے لیے کوئی حکمت عملی تیار کی جا سکے تو ارطبون نے اپنے لشکر کے ساتھ جہاں پڑاؤ ڈالا تھا، آپ اس میں نہایت ہوشیاری سے داخل ہو گئے اور وہاں سے نکلتے وقت بہت قریب تھا کہ قتل کر دیے جاتے، لیکن اللہ نے آپ کو بچا لیا اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ روم کے ارطبون کو دھوکا دینے میں کامیاب ہوگئے۔ جب عمر رضی اللہ عنہ کو اس واقعہ کی خبر ملی تو کہنے لگے: عمرو اس پر غالب آگئے، اللہ عمرو کے ساتھ ہے۔[4] ۵: قائد ہوشیار وماہر ہو ، اسے جنگی بصیرت حاصل ہو: المغنی کے مؤلف ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ امیر جنگ کی صفات پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’… امیر جنگ (کمانڈر) کو بہتر سوجھ بوجھ اور جنگی بصیرت والا، عقل مند، طاقتور اور دشمن کی چال سے واقف ہونا ضروری ہے، نیز اسے امانت دار، نرم دل اور مسلمانوں کا خیر خواہ ہونا چاہیے۔‘‘[5] اسی وجہ سے عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے مشورہ لینے کے بعد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو محاذ عراق کا امیر بنایا تھا۔ ۶: جذبۂ عمل کا اعتبار: حکومت فاروقی کے لائحہ عمل میں یہ بات شامل تھی کہ آپ کسی آدمی کو کسی ایسے عمل کا ذمہ دار نہیں بناتے تھے جس پر وہ قانع نہ ہو اور اس کی طرف اس کا طبعی میلان نہ ہو۔ اس کے خلاف اگر کہیں آپ کا کوئی عمل ملتا ہے تو وہ بدرجہ مجبوری ہے۔ ایسا آپ اس لیے کرتے تھے تاکہ وہ کام بہتر اور مستحکم طریقہ سے انجام پائے، چنانچہ [1] فتح مصر، د/ إبراہیم المتناوی، ص:۱۲۷۔ [2] موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب، ص: ۱۰۰، بحوالۂ سیرۃ عمر، ابن الجوزی، ص:۶۷۔ [3] موسوعۃ فقہ عمر بن الخطاب، ص: ۱۰۰، بحوالۂ مصنف عبدالرزاق: ۱۱/۳۴۸۔ [4] تاریخ الطبری: ۴/۲۶۶۔