کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 782
(۴) دور فاروقی کی فتوحات کے اہم دروس و عبر اور فوائد اسلامی فتح کا مزاج: بعض نصاریٰ و مستشرق مؤرخین نے خلافت راشدہ کے دور کی اسلامی فتوحات کا چہرہ مسخ کرنے کی کوشش کی ہے، ان کا گمان ہے کہ اسلامی فتوحات مذہبی جنگوں کا نتیجہ تھیں۔ انہوں نے کہا کہ: مسلمان مخصوص مذہبی عقیدے والے لوگ تھے لیکن انہوں نے اندھے تعصب کا سہارا لیا اور لوگوں کو ظلم وجبر کے ذریعہ سے اپنے مذہبی اصولوں کا پابند بنایا اس کے لیے سنگ دلی کا مظاہرہ کیا اور خون کی ندیاں بہائیں، وہ ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں تلوار اٹھائے ہوتے تھے۔[1] اس خیال کو عام کرنے میں سیڈیو، میور اور نیبور جیسے مستشرق مؤرخین نے خاص طور سے زور دیا، چنانچہ میور نیبور کے حوالے سے لکھتا ہے کہ: ’’اسلام کو ابدی مذہب بنانے کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنی معاندانہ سازشوں کو برقرار رکھے اور تلوار کی دھار پر تمام انسانوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کرے یا کم از کم عالمی سطح پر دباؤ بنائے رکھے۔ جب کہ کسی بھی مذہب میں اس بات کی قطعاً گنجائش نہیں ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو ان کی زندگی کے کسی بھی مرحلے میں جنگ کرنے پر مجبور کرے، اسلام کی یہی حالت تھی۔‘‘ ان بیمار ذہنوں کا یہ گمان کہ مسلمانوں نے تلوار و طاقت کے ذریعہ سے اسلامی دعوت کو عام کیا یا یہ کہ وہ دیگر مذاہب والوں کے مقابلے میں زیادہ متعصب تھے، بہرحال ایسا برا گمان ہے جس کی مکمل تردید ضروری ہے۔[2] اور انہی مستشرقین میں سے بعض نے اس تہمت کی بھرپور تردید کی ہے اور اسلامی فتوحات کی خوبیوں اور اس کے بہترین مثالی کردار اور انسانیت نوازی کو خوب سراہا ہے۔ چنانچہ وان کریمر کہتا ہے: ’’مسلمانوں نے اپنی جنگوں میں بلند اخلاق کریمہ کا نمونہ پیش کیا۔ ان کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ان کے لیے راہبوں، عورتوں، بچوں اور معذوروں کا قتل حرام قرار دیا، اسی طرح دوران جنگ کھیتیوں کو برباد کرنا اور درختوں کو کاٹ ڈالنا بھی حرام قرار دیا۔ مسلمانوں نے اپنی جنگوں میں ان احکامات کی غایت درجہ پابندی کی، محرمات کو پامال نہیں کیا اور نہ کھیتیوں کو برباد کیا، جب کہ ان کے مقابلے میں [1] الفاروق ص:۲۴۷۔