کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 776
عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور ایفائے عہد: مسلمان فاتحین کا یہ کارواں جس وقت ’’بلہیب‘‘ پہنچا اس وقت رومیوں کے قیدی فروخت کے لیے یمن وغیرہ بھیجے جا چکے تھے۔ حاکم اسکندریہ سے دیکھا نہ جا سکا اور اس نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام بھیجا کہ میں فارسی اور رومی بادشاہوں کو جو کہ آپ کی بہ نسبت مجھے زیادہ ناپسند تھے جزیہ دیتا رہا ہوں۔ میں بخوشی آپ کو جزیہ دینے کو تیار ہوں بشرطیکہ آپ ہمارے ان قیدیوں کو لوٹا دیں جنہیں ہمارے ملک سے گرفتار کیا ہے۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے اس سلسلے میں رائے اور اجازت مانگی، خلیفہ کا فرمان آنے تک دونوں فریقین نے جنگ سے باز رہنے کا عہد کر لیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے جوابی خط ارسال کیا، اس کا مضمون تھا: ’’میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مستقل جزیہ کی آمدنی جس سے ہمارا اور بعد کے مسلمانوں کا بھلا ہو اس مال غنیمت سے مجھے کہیں زیادہ پسندیدہ ہے جو فوج میں تقسیم ہو کر ایسے ہی ختم ہو جائے جیسا کہ کچھ تھا ہی نہیں اور قیدیوں سے متعلق عرض ہے کہ اگر حاکم اسکندریہ اس شرط پر جزیہ دینے کو تیار ہو جائے کہ ان کے جو قیدی تمہارے پاس موجود ہیں انہیں اختیار دیا جائے کہ اسلام اور اپنے آبائی مذہب میں سے جسے چاہیں قبول کر لیں۔ ان میں جو اسلام قبول کرے گا وہ مسلمانوں کے زمرہ میں داخل ہو جائے گا اور جو اپنی قوم کا مذہب اختیار کرے گا اس سے جزیہ لیا جائے گا۔ رہے وہ لوگ جو غلام ہو کر مختلف شہروں میں جا چکے ہیں ان کی واپسی ہمارے بس سے باہر ہے۔‘‘ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے خلیفہ کی یہ بات حاکم اسکندریہ کے سامنے رکھی، اس نے منظور کر لیا۔ پھر موجودہ قیدیوں کو مسلمانوں نے اکٹھا کیا اور نصاریٰ بھی جمع ہوئے۔ پھر ہر ایک قیدی کو مسلمانوں نے اختیار دیا کہ جسے مذہب اسلام پسند آئے وہ اسے قبول کر لے اور جسے نہ پسند آئے وہ اپنے آبائی دین پر قائم رہے، جس غلام نے اسلام قبول کیا، مسلمانوں نے نعرۂ تکبیر سے اس کا استقبال کیا اور جو نصرانیت پر باقی رہا اس پر جزیہ عائد کیا گیا۔[1] یہ واقعہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی دنیا بیزاری، آخرت طلبی اور پوری دنیائے انسانیت کو اسلام کی طرف بلانے کی سچی تڑپ پر صداقت کی مہر لگاتا ہے۔ قیدیوں کے اسلام قبول کر لینے سے مسلمانوں کا کوئی دنیوی فائدہ نہیں تھا، بلکہ اگر وہ اپنے مذہب پر قائم رہتے تو مسلمانوں کو دنیوی فائدہ ملتا، کیونکہ وہ مسلمانوں کو جزیہ ادا کرتے، لیکن اس کے باوجود ہم دیکھ رہے ہیں کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ قیدیوں کو اختیار دیتے ہیں کہ اسلام قبول کر لیں، یا اپنے مذہب پر باقی رہیں اور جب معاہدہ کا نفاذ شروع ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قیدیوں کو ایمان لاتے دیکھ کر اتنی بلند آواز سے [1] فتح مصر والمغرب، ص:۱۰۵، فتح مصربین الرؤیۃ الإسلامیۃ والرؤیۃ النصرانیۃ، د/ إبراہیم متناوی، ص: ۱۱۴۔ [2] التاریخ الإسلامی، الحمید: ۱۱/۳۴۸،۳۴۹۔