کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 774
ساتھ چند جنگجوؤں کو فصیلوں سے تکبیر کا نعرہ لگاتے دیکھ کر وہ سکتے میں پڑ گئے، اچانک تلواروں کی کاٹ نے انہیں بدحواس کر دیا۔ قلعہ میں بیٹھے محافظ فوجی شکست کا نظارہ دیکھ کر صلح و امان کے طالب ہوئے اور مسلمان فاتح بن کر قلعہ میں شان سے داخل ہوگئے۔[1] ۴: محاصرہ کو صبر واستقامت کے ساتھ طول دینا: سیّدناعمرو رضی اللہ عنہ نے ’’کریون‘‘ اور ’’اسکندریہ‘‘ کے محاصرہ کو صبر واستقامت کے ساتھ طول اور ہجومی کارروائی مؤخر کرنے میں مصلحت دیکھی۔ چنانچہ جب آپ کو یقین ہوگیا کہ کریون کے محفوظ ومضبوط قلعوں میں بند رومی سپاہیوں پر غلبہ پانا مشکل ہے تو ایک مرتبہ قلعہ پر حملہ کی ناکام کوشش کے بعد وقت کی کوئی تحدید کیے بغیر تھکاوٹ و مشقت رصد کے خاتمے اور سپاہیوں کی بے صبری سے بے فکر ہو کر مکمل صبر وثبات کے ساتھ محاصرہ جاری رکھا، برابر جھڑپیں کرتے رہے۔ کریون کا محاصرہ کیے ہوئے جب دس دن سے کچھ زیادہ ہوگئے تو رومیوں نے یقین کر لیا کہ مسلمان اس محاصرہ میں مسلسل جھڑپیں کرنے اور جنگ لڑنے کا عزم کر چکے ہیں۔ ایسی صورت میں ان کے سامنے مسلمانوں کی اطاعت اور قلعہ ان کے حوالے کر دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ بالکل یہی کیفیت اسکندریہ کے محاصرہ کے وقت بھی تھی۔ فرق اتنا تھا کہ اسکندریہ کے محاصرہ کی مدت زیادہ یعنی تین مہینے تھی اور اس محاصرہ کے طول پکڑنے کی وجہ یہ تھی کہ رومی فوج اچھی طرح محسوس کر رہی تھی کہ ہمارے لشکر اور سلطنت کی حفاظت وبقا کے لیے یہ آخری موقع بچا ہے اگر اسکندریہ کا سقوط ہوگیا تو مصر اور پورے افریقہ کا سقوط ہو جائے گا۔[2] سیّدناعمر فاروق رضی اللہ عنہ کو فتح کی بشارت: عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ کو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس فتح اسکندریہ کی خوشخبری دینے کے لیے بھیجا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے چلتے چلتے کہا: آپ میرے ساتھ خط کیوں نہیں لکھ دیتے؟ عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: خط کی کیا ضرورت ہے، کیا تم عربی نہیں ہو کہ جو کچھ تم نے دیکھا اور تم حاضر تھے اسے بتا سکو؟[3] چنانچہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فتح اسکندریہ کی خوشخبری سنائی۔ عمر رضی اللہ عنہ سجدہ میں گر گئے اور کہا: الحمد للہ۔ آیے اس واقعہ کی تفصیل ہم خود معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ کی زبانی سنیں: ان کا بیان ہے کہ جب عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو میں مسجد پہنچا۔ میں وہاں بیٹھا ہی تھا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے گھر سے ایک لونڈی نکلی، اس نے دیکھا کہ طویل سفر کی وجہ سے میرے کپڑوں کا رنگ بدلا ہوا ہے، وہ میرے پاس آئی اور پوچھا کہ تم کون ہو؟ میں نے کہا: معاویہ بن خدیج، عمرو بن عاص کا قاصد۔ وہ پھر گھر میں واپس چلی [1] الحرب النفسیۃ، د/ أحمد نوفل، ص:۱۷۴۔ [2] الحرب النفسیۃ، د/ أحمد نوفل، ص:۱۷۴۔ [3] الفن العکسری الإسلامی، ص:۳۲۰۔