کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 767
(۳) فتح مصر کے اہم دروس و عبر اور فوائد عبادہ بن صامت انصاری رضی اللہ عنہ کی سفارت: عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے جب قلعہ بابلیون کا محاصرہ کیا تو مقوقس نے آپ کے پاس یہ خط لکھا: ’’تم ہمارے ملک میں گھس آئے ہو اور ہم سے لڑنے پر تلے ہو، ہمارے ملک میں تمہارا قیام طویل ہوگیا ہے، حالانکہ تم مٹھی بھر ہو اور روم کی مسلح افواج تم سے مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ تم دریائے نیل کے گھیرے میں ہو اور ہمارے ہاتھوں میں قید ہو، اپنے کچھ آدمی ہمارے پاس بھیج دو کہ ہم سنیں وہ کیا کہتے ہیں، ممکن ہے کوئی ایسی صورت نکل آئے جو ہمارے اور تمہارے لیے یکساں پسندیدہ ہو اور یہ جنگ ختم ہو جائے پیشتر ازیں کہ رومی افواج تم پر چھا جائیں اور بات چیت کا کوئی پہلو اور کوئی فائدہ باقی نہ رہے۔ ہو سکتا ہے جنگ کا نتیجہ تمہاری خواہش اور امید کے برخلاف نکلے اور تمہیں ندامت اٹھانی پڑے۔ اس لیے اپنے نمائندے ہمارے پاس بھیجو کہ ان کے ذریعہ سے ہماری اور تمہاری پسند کی بات طے ہو جائے۔‘‘ جب مقوقس کے قاصد عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس اس کا خط لے کر آئے تو آپ نے انہیں دو دن اور دو راتیں اپنے پاس روک لیا، مقوقس کو ان کے بارے میں تشویش لاحق ہوئی اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ’’آپ لوگوں کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ سفیروں کو قید یا قتل کرتے ہیں اور ان کا مذہب انہیں اس بات کی اجازت دیتا ہے؟‘‘ جب کہ عمرو رضی اللہ عنہ کے روکنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کی حالت وحوصلہ مندی دیکھ لیں۔ دو دن کے بعد عمرو رضی اللہ عنہ نے انہیں اس مکتوب کے ساتھ واپس کیا: ’’ہمارے اور تمہارے درمیان صرف تین صورتیں ہیں:اسلام قبول کر لو اور اس صورت میں تم ہمارے بھائی ہو گے، ہمارے تمہارے حقوق یکساں ہوں گے اور اگر تمہیں یہ نامنظور ہے تو زیر دست بن کر جزیہ ادا کرو، ورنہ ہم صبر واستقلال کے ساتھ تم سے لڑیں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر دے اور اللہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘[1] جب مقوقس کے قاصد اس کے پاس گئے تو اس نے وفد سے مسلمانوں کا حال پوچھا، انہوں نے کہا: ہم نے [1] الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین، ص:۲۳۱۔