کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 765
میں فتح ہوا۔[1]عیسوی سن کے مطابق ۲۱ دسمبر ۶۴۰ء میں، جب کہ بٹلر فتح مصر کی تاریخ لکھتے ہوئے اس تحقیق پر پہنچا ہے کہ شہر اسکندریہ کا محاصرہ جولائی ۶۴۰ء کے آخر میں شروع ہوا اور ۸ نومبر ۶۴۱ء مطابق ۷ ذی الحجہ ۲۱ہجری میں وہاں کے باشندوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ میرے خیال میں یہی تحقیق درست ہے، کیونکہ عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے نام جو خط آیا تھا اس میں لکھا تھا کہ ’’تم دو سال سے لڑ رہے ہو۔‘‘ اس حساب سے اگر دیکھا جائے تو دسمبر ۶۳۹ء جس میں عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے عریش پر چڑھائی کی تھی، اس وقت سے ۶۴۱ء تک جس میں اسکندریہ فتح ہوا، دو سال کی مدت لگ جاتی ہے۔ اسکندریہ فتح ہونے کے بعد عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے وہاں کے لوگوں کو نہ تو قتل کیا اور نہ ہی قیدی بنایا بلکہ انہیں بھی باشندگان بابلیون کی طرح امان دے کر جزیہ وصول کرنا منظور کر لیا۔ پھر جب وہاں فساد کے اندیشے ختم ہوگئے اور آپ کو اطمینان ہوگیا تو فوج کا ایک محافظ دستہ وہاں چھوڑ کر بقیہ دستوں کو مصر میں رومیوں کے دیگر قلعوں اور پناہ گاہوں کو فتح کرنے کے لیے ادھر ادھر پھیلا دیا، اس بحر متوسط کا پورا ساحلی علاقہ اور رشید و دمیاط جیسے اس کے بڑے بڑے شہروں پر فتح مکمل کر لی اور اپنے دائرہ اقتدار کو ڈیلٹائے مصر اور صعید تک وسیع کر دیا۔[2] فتح برقہ وطرابلس: مصر فتح کر لینے اور وہاں امن وامان قائم ہو جانے کے بعد عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ مغرب کی سمت بڑھے، تاکہ ادھر سے مفتوحہ علاقوں کے لیے کوئی خطرہ باقی نہ رہے، کیونکہ برقہ اور طرابلس میں روم کی کچھ فوج قلعہ بند تھی اور موقع ملنے پر لوگوں کے ورغلانے سے وہ مصر میں مسلمانوں پر دھاوا بول سکتے تھے، چنانچہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ۲۲ہجری میں اپنی فوج لے کر برقہ کی طرف چلے۔ اسکندریہ سے برقہ تک کا راستہ نہایت سرسبز و شاداب اور گھنی آبادی والا تھا۔ اس لیے وہاں تک پہنچنے میں آپ کو دشمن کی کسی سازش کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور جب وہاں پہنچے تو لوگوں نے جزیہ کی ادائیگی پر مصالحت کر لی۔ اس کے بعد برقہ کے لوگ خود بخود والی مصر کے پاس جاتے اور اپنا خراج جمع کر آتے تھے۔ مسلمانوں کی طرف سے کسی کو ان کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ یہ لوگ مغرب میں سب سے زیادہ سادہ دل لوگ تھے، ان کے یہاں کوئی فتنہ و فساد نہ تھا۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ یہاں سے نکلے تو طرابلس کی طرف بڑھے، جو محفوظ و مضبوط قلعوں والا شہر تھا، وہاں رومی فوج کی بہت بڑی تعداد مقیم تھی۔ اس نے مسلمانوں کی آمد کی خبر سن کر اپنے قلعوں کے دروازے بند کر لیے اور مجبوراً مسلمانوں کے محاصرہ کو برداشت کرنے لگے۔ یہ محاصرہ ایک ماہ تک جاری رہا، لیکن مسلمانوں کو کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ ملی۔ طرابلس کے عقب میں شہر سے متصل سمندر بہتا تھا اور سمندر وشہر کے درمیان کوئی فصیل قائم نہ تھی۔ مسلمانوں کی ایک جماعت کو یہ راز معلوم ہوگیا اور پیچھے سے سمندر کی طرف سے شہر میں داخل ہوگئی۔ انہوں [1] الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین، ص:۲۲۸۔ [2] الأنصار فی العصر الراشدی، ص:۲۲۸۔ [3] الانصار فی العصر الراشدی، ص:۲۱۲۔