کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 757
اصلاح کرتے ہیں۔ تم سب قدوئہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتر عمل کرنے والے ہو جاؤ۔[1] ’’فرما‘‘ فتح کرنے کے بعد عمرو رضی اللہ عنہ اس حد تک مطمئن ہو چکے تھے کہ اب یہ شہر دشمن کے لیے پناہ گاہ بننے کے لائق نہیں بچا ہے، پھر اپنی فوج کے حالات اور خیریت معلوم کرنے لگے۔ ان چند مجاہدین کی شہادت پر آپ کو زیادہ ہی تکلیف ہوئی جو مصر فتح کرنے کے لیے زیادہ بے چین تھے اور وہ وقت آنے سے پہلے موت نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو اسی وقت سے یہ خطرہ لاحق ہوگیا کہ اگر آئندہ اسی طرح لڑائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور قلت تعداد کے باعث ہمارا اسی طرح جانی نقصان ہوا تو ممکن ہے کہ اصل جنگ کا مقابلہ نہ کیا جا سکے اور منزل تک پہنچنے میں ہم ناکام رہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی تائید غیبی سے اس نقصان کی تلافی کر دی۔ بایں طور کہ راشدہ اور لخم کے جو عربی قبیلے کوہ حلال[2]کے دامن میں زندگی گزار رہے تھے وہ اسلامی فوج سے آملے اور عمرو رضی اللہ عنہ اپنا لشکر لے کر بلا کسی مزاحمت کے مغرب کی طرف روانہ ہوگئے۔ جب قواصر (قصاصین) پہنچے تو یہاں سے جنوب کی طرف مڑ گئے اور صبح ہوتے ہوتے ’’التل الکبیر‘‘ کے قریب وادی طمبلان پہنچ گئے۔ جنوب کی سمت میں مزید پیش قدمی کرتے ہوئے بلبیس پہنچے، النجوم الزاہرہ کے مؤلف کا کہنا ہے کہ عمرو رضی اللہ عنہ نہایت ہلکی ومعمولی مزاحمتوں سے گزرتے ہوئے بلبیس آئے۔[3] ۲: فتح بلبیس: سیّدناعمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنی جمعیت کے ساتھ جب بلبیس پہنچے تو رومی فوج نے کثیر تعداد میں وہاں آپ کا راستہ روکنا چاہا تاکہ بابلیون کے قلعہ تک مسلمان نہ پہنچ سکیں، اپنے منصوبہ کے مطابق رومی فوج یہیں لڑنا چاہتی تھی، لیکن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم اس وقت تک جلدی نہ کرو جب تک کہ ہم اپنی بات تمہارے سامنے رکھ نہ دیں تاکہ کل عذر ومعذرت کی کوئی بات نہ رہ جائے۔ تم اپنے پاس سے ابومریم اور ابومریام کو میرے پاس سفیر بنا کر بھیجو۔ چنانچہ وہ لوگ لڑنے سے رک گئے اور مطلوبہ دونوں سفیروں کو عمرو بن عاص کے پاس بھیجا آپ نے ان دونوں کو اسلام یا جزیہ دونوں میں سے کسی ایک کو ختیار کرنے کا حکم دیا اور یہ بھی سنایا کہ ہاجرہ یعنی اسماعیل علیہ السلام کی ماں کا مصر سے تعلق ہونے کی وجہ سے اہل مصر کے بارے میں ہمیں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد ہے: (( إِنَّکُمْ سَتَفْتَحُوْنَ مِصْرَ ، وَہِیَ أَرْضٌ یُسََمّٰی فِیْہَا الْقِیْرَاطُ فَإِذَا فَتَحْتُمُوْہَا فَأَحْسِنُوْا إِلَی أَہْلِہَا فَإِنَّ لَہُمْ ذِمَّۃً وَرَحْمَۃً ۔ أَوْ قَالَ: ذِمَّۃً وَ صِہْرًا۔)) [4] [1] فتح مصر، صبحی ندا، ص:۱۹،۲۰۔