کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 756
کے ساتھ آنے والے فوجی معمولی تعداد اور ناقابل ذکر جنگی تیاری میں ہیں، زیادہ دنوں تک محاصرہ نہیں کر سکتے، جب کہ ہم ان سے زیادہ تعداد و تیاری میں ہیں اور انہیں پست کر لے جائیں گے، وہ شہر میں قلعہ بند ہوگئے۔ ادھر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو رومیوں کی عسکری قوت کا علم ہو چکا تھا کہ وہ تعداد واسلحہ میں کئی گنا ہم پر بھاری ہیں، چنانچہ آپ نے ’’فرما‘‘ پر قابض ہونے کے لیے یہ منصوبہ بنایا کہ اچانک حملہ کر کے فصیل کے دروازوں کو کھول دیا جائے یا پھر اس وقت تک صبر کے ساتھ محاصرہ جاری رکھا جائے جب تک کہ شہریوں کی خوراک ختم نہ ہو جائے اور بھوک سے بے تاب ہو کر باہر نہ نکل آئیں۔ چنانچہ محاصرہ کر لیا، ادھر مسلمانوں کا محاصرہ سخت سے سخت تر ہوتا جا رہا تھا اور ادھر رومی بھی اپنی ضد سے پیچھے نہ ہٹ رہے تھے۔ اس طرح محاصرہ کئی مہینے جاری رہا، کبھی کبھی بعض رومی فوج باہر آتی اور دو چار جھڑپیں کر کے پیچھے ہٹ جاتی، ان جھڑپوں میں مسلمان ہی غالب رہتے۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اپنی جوش آفریں تقریر سے مسلمانوں کو ہمت دلاتے، ایک تقریر میں آپ نے کہا: اے اسلام وایمان کے پاسبانو! اے قرآن کو سینے میں سجانے والو! اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ! فولادی مردوں کی طرح صبر کرو، ثابت قدم رہو، اپنی صفوں سے نہ ہٹو، تیر برساتے رہو، زرہوں سے خود کو بچاتے رہو، خاموش رہو، ہاں بولو تو اللہ کا ذکر کرو، اپنی مرضی سے کوئی نیا اقدام نہ کرو، جب تک کہ میں تم کو حکم نہ دے دوں۔[1] ایک دن رومی افواج کی ایک جماعت بستی سے باہر نکل کر مسلمانوں سے لڑنے نکلی، مقابلہ میں مسلمان غالب رہے اور رومی ہزیمت کھا کر بستی کی طرف بھاگے، مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا، دوڑنے میں کافی تیز روی کا ثبوت دیا اور کچھ لوگوں نے دروازے تک رومیوں کے پہنچنے سے پہلے ہی وہاں پہنچ کر فصیل کا دروازہ کھول دیا۔ شہر میں سب سے پہلے مسلمانوں کے ایک جانباز اسمیقع داخل ہوگئے اور فتح مبین کا راستہ صاف کر دیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مصر کے قدیم باشندے یعنی ادھر ادھر دیہاتوں میں رہنے والے قبطیوں نے مسلمانوں کا استقبال کیا۔ جب فرما پر مسلمانوں کا قبضہ مکمل ہوگیا تو انہوں نے اس کی مضبوط فصیلوں اور قلعوں کو منہدم کر دیا تاکہ اگر کبھی (بدقسمتی) سے رومی اس پر غالب ہوں تو اس سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ اس کے بعد عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکر والوں میں خطبہ دیا: اے لوگو! اس اللہ کی تعریف بیان کرو جس نے مسلمانوں کے لشکر کو فتح وغلبہ سے نوازا۔ اللہ بہت بڑا کار ساز ہے، اس نے اسلام سے ہماری پشت پناہی کی اور اسی سے ہماری واپسی کا راستہ محفوظ کیا، لیکن تم کہیں اس خام خیالی میں نہ آنا کہ اللہ سے ہم جو کچھ بھی چاہیں گے وہ پورا ہی ہو جائے گا اور تم اس نصرت الٰہی سے دھوکا کھا جاؤ۔ ابھی ہمارے سامنے نہایت دشوار گزار راستہ ہے، امیرالمومنین نے ہمیں جس مہم پر مامور کیا ہے اس کا پانا ابھی بہت دور ہے۔ صبر سے کام لو، اپنے امیر کی اطاعت کرو، عنقریب مفتوحہ قوم جان لے گی کہ ہم سلامتی دینے والی فوج ہیں، روئے زمین پر ہم فساد نہیں کرتے بلکہ فساد کو مٹاتے اور زمین کی [1] النجوم الزاہرۃ ۱/۴۔۷۔ [2] فتوح مصر، ص: ۵۷۔ [3] تاریخ الطبری: ۵/ ۸۴ تا ۹۳۔ [4] عمرو بن العاص القائد والسیاسی، د/ عبدالرحیم محمد، ص:۷۹۔