کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 75
تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں عطا کرے گا۔ یہاں تک کہ میں آپ کی ایک بیوی کے پاس آیا، تو اس نے کہا: اے عمر! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ اپنی بیویوں کو سمجھائیں، یہاں تک کہ آپ انہیں سمجھا رہے ہیں؟ [1] تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ تَائِبَاتٍ عَابِدَاتٍ سَائِحَاتٍ ثَيِّبَاتٍ وَأَبْكَارًا (التحریم:۵) ’’اس کارب قریب ہے، اگر وہ تمھیں طلاق دے دے کہ تمھارے بدلے اسے تم سے بہتر بیویاں دے دے، جو اسلام والیاں، ایمان والیاں، اطاعت کرنے والیاں، توبہ کرنے والیاں، عبادت کرنے والیاں، روزہ رکھنے والیاں ہوں، شوہر دیدہ اور کنواریاں ہوں۔‘‘ (۲) منافقین پر نمازِ جنازہ نہ پڑھنے کی موافقت: عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: جب عبداللہ بن ابی کی وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی نماز جنازہ پڑھنے کے لیے بلایا گیا، آپ تشریف لے گئے، جب آپ نے نماز پڑھانے کی نیت کی تو میں آپ کے سامنے کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ اللہ کے دشمن عبداللہ بن ابی پر نماز جنازہ پڑھیں گے؟ جس نے فلاں موقع پر ایسا ایسا کہا تھا اور فلاں وقت ایسا ایسا کیا تھا؟ میں اس کے برے کردار کو گنواتا رہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہے، یہاں تک کہ جب میں نے آپ سے بہت کہہ ڈالا تو آپ نے فرمایا: (( أَخِّرْ عَنِّیْ یَا عُمر إِنِّیْ خُیِّرتُ فَاخْتَرْتُ۔)) ’’اے عمر! مجھ سے پیچھے ہٹ جاؤ، مجھے اختیار دیا گیا تو میں نے (مناسب عمل) اختیار کیا۔‘‘ مجھ سے کہا گیا: اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللّٰهِ وَرَسُولِهِ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ (التوبۃ:۸۰) ’’ان کے لیے بخشش مانگ، یا ان کے لیے بخشش نہ مانگ، اگر تو ان کے لیے ستر بار بخشش کی دعا کرے گا تو بھی اللہ انھیں ہرگز نہ بخشے گا۔ یہ اس لیے کہ بے شک انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور اللہ نا فرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ ((فَلَوْ أَعْلَمُ أَنِّیْ اِنْ زِدْتُ عَلَی السَّبْعِیْنَ غُفِرَلَہٗ زِدْتُ۔)) یعنی ’’اگر میں جانتا کہ میرے ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کرنے پر وہ بخش دیا جائے گا تو میں اور [1] عمر بن الخطاب، علی الخطیب، ص: ۵۱۔ [2] عمر بن الخطاب، حیاتہ، علمہ، ادبہ، ص: ۵۲۔ [3] عمر بن الخطاب، حیاتہ، علمہ، ادبہ، ص: ۵۲ ۔