کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 746
کے جوہر دکھاتے ہوئے اللہ کے راستہ میں شہید کر دیے گئے۔ ام حکیم رضی اللہ عنہا نے بھی اپنے کپڑے کس لیے اور مقابلہ کے لیے ڈٹ گئیں۔ ان کے کپڑوں پر خوشبو کے نشانات صاف طور سے دیکھے جا سکتے تھے۔ اس دن مسلمانوں نے دریا پر زبردست جنگ لڑی اور دونوں افواج نے بے جگری کا ثبوت دیا، تلواروں نے ایک دوسرے کو خوب کاٹا، اس دن ام حکیم رضی اللہ عنہا نے جس خیمہ میں خالد رضی اللہ عنہ کے ساتھ شب زفاف منائی تھی اس کی چوبوں سے سات رومی کافروں کو جہنم رسید کیا۔[1] ھ: شاہ روم قیصر کا الوداعی سلام، شام والوں کے نام: ۱۵ ہجری میں ہرقل اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ پیچھے ہٹا اور شام سے بلاد روم کوچ کر گیا۔[2]بعض مؤرخین اسے ۱۶ ہجری کا واقعہ بتاتے ہیں۔[3]ہرقل جب بیت المقدس کی زیارت کے لیے جاتا اور واپس ہوتا تو کہتا: اے سوریہ تجھے میرا سلام، الوداع کہنے والے کا سلام، جو تجھ سے اپنی کوئی ضرورت پوری نہ کر سکا اور اب نامراد لوٹ رہا ہے۔ جب شام سے کوچ کا پختہ ارادہ کر لیا اور ’’رھا‘‘[4]پہنچا تو وہاں کے لوگوں سے کہا کہ میرے ساتھ روم تک چلو، انہوں نے کہا: تمہارے ساتھ جانے سے تمہارے حق میں ہم بہتر سمجھتے ہیں کہ یہیں قیام کریں۔ وہ سب کو چھوڑ کر آگے بڑھا اور ’’شمشاط‘‘[5]پہنچا، وہاں ایک ٹیلے پر کھڑا ہوا اور بیت المقدس کی طرف نگاہ اٹھائی اور اس سے مخاطب ہو کر کہنے لگا: اے سوریہ تجھے الوداعی سلام، اب اس کے بعد کبھی ملاقات نہ ہوگی۔[6] پھر ہرقل وہاں سے چل کر قسطنطنیہ آیا، وہی اس کا پایہ تخت رہا۔ ہرقل کے ساتھ ایک شخص تھا جو مسلمانوں کے ساتھ قید رہ چکا تھا اس سے اس نے پوچھا: مجھے بتاؤ کہ یہ کون سی قوم ہے؟ اس نے کہا: میں تمہارے سامنے ان کی ایسی تصویر کشی کروں گا گویا تم انہیں آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔ وہ دن کو شہ سوار اور رات کو عبادت گزار ہوتے ہیں، حرام کا ایک لقمہ بھی نہیں کھاتے، بغیر سلام کیے کسی کے پاس داخل نہیں ہوتے۔ جو ان سے پنجہ آزمائی کرتا ہے وہ اس کا صفایا ہی کر دیتے ہیں۔ بادشاہ نے کہا: اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو یقینا وہ دن دور نہیں جب وہ ہمارے اس تخت و تاج کے مالک ہو جائیں گے۔[7] و: اللہ نے تمہیں اسلام کے ذریعہ سے عزت دی ہے: جب سیّدناعمر رضی اللہ عنہ اپنے گدھے پر سوار ایک طرف دونوں پاؤں لٹکائے ہوئے عام آدمی کی طرح شام پہنچے تو ابوعبیدہ نے کہا: اے امیرالمومنین! ابھی بڑے بڑے لوگ آپ کا استقبال کرنے آئیں گے۔ (بہتر ہوگا کہ ٹھیک سے بیٹھ جائیں) آپ نے فرمایا: اللہ نے تمہیں اسلام کے ذریعہ سے عزت بخشی ہے، اس کو چھوڑ کر دوسری [1] الانصار فی العصر الراشدی، ص:۲۰۹۔ [2] بعض مؤرخین کے نزدیک معرکہ یرموک میں اور بعض کے نزدیک اجنادین اور بعض کے نزدیک فحل میں ان کی شہادت ہوئی تھی۔