کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 744
وہ قرآنی ہدایات اور نبوی تعلیمات کے مطابق ہم میں کام کرتا ہے تو ہم اسے اپنا امیر مانتے ہیں اور اگر وہ اس سے ہٹ جاتا ہے تو اسے منصب سے ہٹا دیتے ہیں۔ وہ ہم سے الگ تھلگ ہو کر نہیں رہتا، نہ تکبر کرتا ہے اور نہ ہم پر اقتدار کا رعب جماتا ہے اور رومی افواج کی کثرت کے جواب میں یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ مَعَ الصَّابِرِينَ (249)(البقرۃ: ۲۴۹) ’’ کتنی ہی تھوڑی جماعتیں زیادہ جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غالب آگئیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ‘‘ اور آخر میں جب رومی معاذ رضی اللہ عنہ کو مرعوب نہ کر سکے اور نگاہیں چکا چوند کر دینے والے اسباب آرائش سے بھی ان سے اپنا مقصد حاصل نہ کر سکے تو اصل موضوع کی طرف لوٹے اور مسلمانوں سے اس شرط پر صلح کی درخواست کی کہ بلقاء اور متصل علاقے مسلمان لے لیں اور مصالحت ہو جائے۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے انہیں خبردار کیا اور کہا: ہمارے سامنے تین چیزیں ہیں، ان میں سے کسی ایک کو قبول کرنا ہو گا، اسلام، جزیہ یا پھر جنگ۔ یہ سننا تھا کہ وہ سب بہت ناراض ہوئے اور کہا: جاؤ اپنے ساتھیوں کے پاس چلے جاؤ، وہ دن دور نہیں جب ہم تمہیں رسیوں میں باندھیں گے۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: رہا رسیوں میں باندھنا، تو یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ البتہ ہمارا آخری فرد جان دینے تک لڑتا رہے گا یا ہم تمہیں ذلیل و رسوا کر کے یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ اتنا کہہ کر آپ واپس لوٹ آئے۔[1] اس طرح اس سفارت میں معاذ رضی اللہ عنہ کی شخصیت ایک مدبر سیاسی، ماہر فوجی اور حکیم داعی کی حیثیت سے نمودار ہوئی، جو اپنے دشمن کے دلائل کا منہ توڑ جواب دیتے اور چبھتے ہوئے الزامی اعتراضات کرتے رہے، ان کے عیوب اور رعایا پر جبر و تسلط کو گناتے ہوئے انہی کے مذہب کا واسطہ دیتے اور اسلام کی طرف بلاتے رہے۔ جہاں تک ان کے مرعوب کرنے اور نفسیاتی جنگ کی بات ہے تو آپ نے اس کا جواب خوف و دھمکی سے نہیں دیا، بلکہ واقعیت پسندی کا مظاہرہ کیا اور اپنا مقصد صاف لفظوں میں بتا دیا۔ پھر اپنی قیادت کے پاس واپس آگئے اور مسلم قیادت نے جو کچھ انہوں نے کیا اور رومیوں سے کہا اس کی تائید کی۔[2]مسلمان اپنے دشمن سے جنگ کرنے سے پہلے اسے اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ ج: فتح قیساریہ میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا موقف: قیساریہ کے محاصرہ کے موقع پر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اسلامی فوج کے میمنہ کے قائد تھے۔ آپ اپنی فوج کو نصیحت کرنے کھڑے ہوئے، انہیں گناہوں سے بچنے اور اپنا محاسبہ کرنے کا حکم دیا، پھر مجاہدین کا ایک ہجوم لے کر آگے بڑھے اور بہت سارے رومیوں کو قتل کیا، لیکن اپنے مقصد میں اچھی طرح کامیاب نہ ہوئے۔ دوبارہ اپنی [1] الاکتفاء/ الکلاعی: ۳/۱۹۴۔