کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 742
اور مال کو امن ہے یہاں تک کہ وہ اپنی پناہ گاہ میں پہنچ جائے، اور جو ایلیا ہی میں رہنا پسند کرے اسے بھی امن ہے لیکن اسے جزیہ دینا ہوگا اور ایلیا والوں میں سے جو لوگ جان اور مال لے کر رومیوں کے ساتھ چلے جانا چاہیں انہیں اور ان کے گرجاؤں کے جو لوگ ہیں ان میں سے اگر کوئی یہاں رہنا چاہے تو رہ سکتا ہے، اسے بھی ایلیا والوں کی طرح جزیہ ادا کرنا ہوگا۔ اگر کوئی رومیوں کے ساتھ جانا چاہے تو چلا جائے اور اگر کوئی اپنے اہل وعیال میں واپس ہونا چاہے تو ہو جائے، ان سے کوئی چیز نہیں لی جائے گی، یہاں تک کہ وہ اپنی کھیتیاں کاٹ لیں۔ جو کچھ اس تحریر میں ہے اس پر اللہ کا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا، خلفاء کا اور مسلمانوں کا ذمہ ہے بشرطیکہ یہ لوگ جزیہ مقررہ ادا کرتے رہیں۔ اس معاہدہ پر خالد بن ولید، عمرو بن عاص، عبدالرحمن بن عوف اور معاویہ بن ابوسفیان گواہ ہیں، یہ معاہدہ ۱۵ ہجری میں لکھا گیا۔‘‘[1] اہم دروس و عبر اور فوائد الف: واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کا فدائی موقف: واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں باب جابیہ پر… جو دمشق کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے… کافی شوروہنگامہ سن رہا تھا، تھوڑی دیر ٹھہر گیا، دیکھا کہ جنگی گھوڑوں کا قافلہ ادھر سے گزر رہا تھا، میں نے آگے نکلنے کا موقع دے دیا، پھر پیچھے سے تکبیر کا نعرہ لگاتے ہوئے ان پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے سمجھا کہ شاید ہمیں گھیر لیا گیا ہے، اس لیے اپنے قائد کو چھوڑ کر وہ شہر کی طرف بھاگے، میں نے اس پر زور دار نیزہ مارا اور گھوڑے سے گرا دیا، پھر اس کے گھوڑے پر سوار ہو کر لگام ہاتھ میں لی اور گھوڑے کو ایڑ لگا دی، اس کے ساتھی آگے رک کر میری طرف متوجہ ہوئے، مجھے تنہا دیکھ کر میرا پیچھا کیا، میں نے اپنے قریب آتے ایک شہ سوار کو نیزہ مارا اور اسے قتل کر دیا، پھر دوسرا قریب آیا اسے بھی مار گرایا اور گھوڑا دوڑاتے ہوئے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ گیا، جب میں ان کو اپنے واقعہ کی خبر دے رہا تھا تو دیکھا کہ رومیوں کا کمانڈر جنرل دمشق والوں کے لیے آپ سے امان مانگ رہا ہے۔[2] ب: معرکۂ فحل سے کچھ پہلے رومیوں کے پاس معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی سفارت: معرکہ فحل سے کچھ پہلے اور مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان چند ایک جھڑپیں ہو جانے کے بعد رومیوں کے کمانڈر جنرل نے مسلمانوں سے کہلوا بھیجا کہ ہمارے پاس اپنا کوئی سفیر بھیجیں، تمہارے مطالبات اور مقاصد کو ہم اس سے جاننا چاہیں گے اور اپنے عزائم سے اس کو آگاہ کریں گے۔ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کی طرف سے [1] فتوح البلدان: ۱/۱۸۹۔ [2] حروب القدس فی التاریخ الإسلامی والعربی ص:۴۱،۴۲۔