کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 739
عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے اس کے پاس جوابی خط میں تحریر کیا کہ ’’میں فاتح بیت المقدس ہوں‘‘ اور خط اپنے قاصد کے ذریعہ سے بھیجتے ہوئے قاصد کو نصیحت کی کہ ارطبون سے اس خط کا جواب لے کر لوٹے۔ جب ارطبون نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا خط پڑھا تو ہنسنے لگا اور کہا: ’’بیت المقدس کے فاتح کا نام عمر ہے‘‘ قاصد نے ارطبون کی بات عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو بتائی، تو عمرو رضی اللہ عنہ نے فوراً اندازہ لگا لیا کہ ارطبون امیرالمومنین عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔[1]عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے خلیفہ راشد کے نام خط لکھا اور ارطبون کی بات نقل کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نزدیک امیرالمومنین عمر ہی بیت المقدس فتح کر سکتے ہیں۔ نیز عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ خط میں آپ سے مدد کا مطالبہ کیا اور آئندہ کی کارروائی سے متعلق رائے اور مشورہ لیتے ہوئے لکھا: ’’میں سخت ترین اور سنگین جنگ میں لگا ہوا ہوں، ایسے شہر میں ہوں جو آپ کے سامنے سپر انداز ہونے کو تیار ہے، آگے آپ کی مرضی۔‘‘[2] چنانچہ صلاح ومشورہ کے بعد ایک امدادی فوج لے کر عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف نکل پڑے۔ سیّدناعلی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا قائم مقام بنایا اور خود جابیہ پہنچ گئے۔ آپ کے پہنچنے کے بعد ایلیا (بیت المقدس) والے خود سامنے آئے اور جزیہ کی ادائیگی پر مصالحت کی اور بیت المقدس کے دروازے ان کے لیے کھول دیے۔[3] ۳: بیت المقدس کا محاصرہ کس نے کیا؟ روایات کا اختلاف اور تحقیق کا نتیجہ: مؤرخ طبری نے بیت المقدس کے محاصرہ سے متعلق کئی روایات نقل کی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق محاصرہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کیا تھا اور ایک روایت میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کے شام آنے کی وجہ یہ تھی کہ جب ابوعبیدہ بیت المقدس پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے شام کی دیگر بستیوں کی طرح یہاں بھی صلح کی پیش کش کی اور کہا کہ معاہدہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے ہوگا تو ابوعبیدہ نے عمر فاروق رضی اللہ عنہما کو اس سلسلہ میں خط لکھا اور آپ نے مدینہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اپنا قائم مقام بنا کر امدادی فوج لے کر شام کی طرف سفر کیا۔ ابن اثیر سے بھی دو روایات منقول ہیں اور دونوں طبری کی روایات سے بالکل ملتی جلتی ہیں۔[4]جب کہ واقدی نے بیت المقدس کے محاصرہ اور اس دوران عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مشورہ اور رومی محافظ دستوں سے بات چیت کو ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کیا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے سات قائدوں کی قیادت میں پینتیس(۳۵) ہزار مجاہدین کو بیت المقدس فتح کرنے کے لیے بھیجا اور ہر قائد کے ساتھ پانچ ہزار فوجی تھے۔ ان ساتوں قائدین میں خالد بن ولید، یزید بن ابی سفیان، شرحبیل بن حسنہ، مرقال بن ہاشم بن ابی وقاص، مسیب بن نجیہ فزاری، قیس بن ہبیرہ مرادی [1] حروب القدس فی التاریخ الإسلامی والعربی، د/ یاسین وسوید، ص:۳۷۔ [2] حروب القدس فی التاریخ الإسلامی والعربی، د/ یاسین وسوید، ص: ۳۸۔ [3] حروب القدس، ص: ۳۸۔ [4] حروب القدس، ص: ۳۸۔ [5] تاریخ الطبری: ۴/ ۴۳۳۔