کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 735
دیا اور چند امراء مثلاً بلال اور مقداد رضی اللہ عنہما کی قیادت میں حمص میں بھاری فوج چھوڑ دی اور عمر رضی اللہ عنہ کو خط کے ذریعہ سے اطلاع بھیجی کہ ہرقل دریائے فرات عبور کر کے جزیرہ بھاگ گیا ہے، کبھی کبھار نظر آتا ہے اور کبھی روپوش رہتا ہے۔ سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے جوابی خط میں ابوعبیدہ کو لکھا کہ آگے پیش قدمی نہ کر یںوہیں ٹھہر جائیں۔[1] معرکہ قنسرین ۱۵ ہجری: حمص فتح ہو جانے کے بعد ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کوقنسرین بھیجا۔[2]جب آپ وہاں پہنچے تو وہاں کے اصلی باشندوں اور عرب نصاریٰ نے آپ کے خلاف جنگ کی، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے سخت جنگ لڑی اور دشمن کے بہت سارے لوگوں کو قتل کیا، جو رومی وہاں بس گئے تھے انہیں جلا وطن کر کے ان کے سردار میناس کو قتل کر دیا۔ باقی رہے جو سیدھے سادھے دیہاتی تو انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس لڑائی کے لیے تیار نہ تھے اور نہ لڑائی کے لیے ہماری رائے تھی۔ خالد رضی اللہ عنہ نے ان کی معذرت قبول کر لی اور انہیں قتل کرنے سے رک گئے۔ پھر جب شہر کے اندر گھسے تو مخصوص سرداروں اور شر پسندوں نے ایک قلعہ میں پناہ لے لی۔ خالدؓ نے ان سے کہا کہ اگر تم بادلوں میں بھی روپوش ہو جاؤ تو اللہ تعالیٰ ہمیں تم تک پہنچا دے گا یا تمہیں خود ہمارے پاس حاضر کر دے گا۔ پھر برابر ان کا دائرہ تنگ کرتے گئے اور بالآخر فتح نصیب ہوئی۔ سیّدناعمر کو خالد رضی اللہ عنہما کے اس کارنامے کی خبر ہوئی تو بے ساختہ بول اٹھے ’’اللہ کی رحمت ہو ابوبکر پر، وہ مجھ سے زیادہ مردم شناس تھے، اللہ کی قسم! میں نے کسی بدنیتی اور برے گمان کی وجہ سے خالد کو معزول نہیں کیا ہے، بلکہ مجھے خوف ہوا کہ کہیں لوگ انہی پر بھروسا نہ کر لیں۔‘‘[3] معرکہ قیساریہ ۱۵ ہجری: ۱۵ ہجری میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہما کو قیساریہ[4]کا امیر بنایا اور ان کے نام خط لکھا: حمد وصلاۃ کے بعد! میں تمہیں قیساریہ کا امیر بناتا ہوں۔ تم وہاں چلے جاؤ اور ان کے بارے میں اللہ سے مدد مانگو، کثرت سے ((لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم۔))پڑھا کرو اور کہتے رہو: ((اَللّٰہُ رَبُّنَا وَثِقَتُنَا وَجَاؤُنَا ، وَمَوْلَانَا نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ الْنَّصِیْرُ۔))اے اللہ! تو ہی ہمارا رب ہے، تجھ پر ہمارا بھروساہے، تجھ سے امیدیں وابستہ ہیں، تو ہی ہمارا مددگار ہے، تجھ سے اچھا کوئی محافظ اور معاون نہیں۔‘‘ چنانچہ معاویہ رضی اللہ عنہ وہاں سے قیساریہ چل پڑے اور وہاں پہنچ کر شہر کا محاصرہ کیا، کئی مرتبہ وہاں کے باشندوں سے جھڑپیں ہوئیں اور ایک وقت آیا کہ دونوں میں شدید جنگ چھڑ گئی۔ معاویہ رضی اللہ عنہ پامردی سے جمے رہے اور جنگ کو کامیاب بنایا۔ اللہ نے ان کے ہاتھوں کو مضبوط کیا اور فتح سے نوازا، دشمن کے تقریباً اسی ہزار (۸۰۰۰۰) لوگ جنگ میں قتل کیے گئے اور بیس ہزار (۲۰۰۰۰) ہزیمت خوردہ و مفرور فوج کو ملا کر ایک لاکھ تعداد پوری کر دی۔ پھر مال غنیمت کا [1] ترتیب وتہذیب البدایۃ والنہایۃ، ص:۶۱۔