کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 732
نتیجہ میں رومیوں کی اس فوج میں زبردست ہنگامہ مچ گیا، جو صرف مسلمانوں کی غارت گری اور ان کی پیش قدمی روکنے پر مامور تھی اور پھر ہزیمت کے آثار دیکھ کر رومی فوج میں ایسی بھگدڑ مچی کہ فحل کے اردگرد پانی، کیچڑ اور دلدل کی خود ساختہ دفاعی پٹی میں خود ہی پھنس گئے۔ کچھ ہی رومیوں نے بھاگ کر جان بچائی بقیہ کو مسلمانوں نے خوب روندا، اس طرح ’’فحل‘‘ سے رومی افواج کا مکمل صفایا ہوگیا اور اب مسلمان اپنے مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے آئندہ کی بنیادی کارروائیوں کے لیے منصوبہ سازی کرنے لگے۔ چنانچہ شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ اردن اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فلسطین کی مہم پر روانہ ہوئے۔ دوسری طرف ابوعبیدہ بن جراح اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہما حمص کی طرف متوجہ ہوئے۔ جب آخر الذکر دونوں قائد مرج الروم پہنچے تو وہاں رومیوں اور مسلمانوں کی فوج کے درمیان گھمسان کی جنگ شروع ہوگئی۔ جنگ ایسی شدید تھی کہ مقتولین کی لاشوں سے زمین پٹ گئی، اس جنگ میں مسلمانوں نے متحرک فوجی جھڑپوں اور دیگر جنگی فنون میں سے ایک اہم فن کو عملی جامہ پہنایا، بایں طور کہ دونوں افواج کے مقدمے اصل معرکہ سے قبل ہی آپس میں گتھم گتھا ہوگئے اور جب رومی فوج کے جرنیل ’’توذرا‘‘ کو پتہ چلا کہ ہماری فوج کا مقدمہ اسلامی فوج سے ٹکرا گیا ہے تو فوراً بقیہ فوج کے ساتھ مسلمانوں کی پشت پر حملہ کرنے کے لیے دمشق کی طرف نکل گیا، لیکن مسلمانوں نے اس کی چالاکی کو بھانپ لیا اور جنگی صورتحال کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد یہ طے پایا کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک فوجی دستہ ’’توذرا‘‘ کو بھگانے اور اس کی فوج کو گرفتار کرنے کا کام کرے اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اپنی فوج کے ساتھ یہیں ٹھہر کر رومیوں سے دو دو ہاتھ کرتے رہیں۔ جس وقت مسلمانوں کی منصوبہ سازی ہو رہی تھی ٹھیک اسی دوران مسلم جاسوسوں نے آکر خبر دی کہ ’’توذرا‘‘ اپنے منصوبہ کے مطابق اپنی فوج کے ساتھ پیش قدمی کر رہا ہے۔ یہ سننا تھا کہ یزید بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما فوج لے کر آگے بڑھے اور اس کا راستہ روک کر جنگ چھیڑ دی، ابھی توذرا اور یزید رضی اللہ عنہ کی فوج میں اچھی طرح لڑائی شروع نہ ہونے پائی تھی کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ رومی فوج کی پشت پر اچانک آپہنچے اور سامنے سے یزید رضی اللہ عنہ اور پشت سے خالد رضی اللہ عنہ کی افواج نے مل کر ’’توذرا‘‘ اور اس کی فوج کا تقریباً مکمل صفایا کر دیا۔[1] جنگ فحل کے موقع پر قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کا شعری کلام: وغداۃ فحل قد رأونی معلمًا والخیل تنحط والبلا أطوار ’’معرکہ فحل کی صبح انہوں نے مجھے علم اٹھائے ہوئے دیکھا، جب کہ شہ سوار گر رہے تھے اور طرح طرح کی بلائیں ان (دشمنوں) پر تھیں۔‘‘ ما زالت الخیل العراب تدوسہم فی یوم فحل والقنا موار [1] العملیات التعرضیۃ والدفاعیۃ عند المسلمین، ص:۱۸۸۔