کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 73
ہمیشگی والی نعمتوں سے مالا مال ہوں: مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (النحل:۹۷) ’’جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو یقینا ہم اسے ضرور زندگی بخشیں گے، پاکیزہ زندگی اور یقینا ہم انھیں ان کا اجر ضرور بدلے میں دیں گے، ان بہترین اعمال کے مطابق جو وہ کیا کرتے تھے۔‘‘ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے شیطان اور انسان کے درمیان حقیقی معرکہ آرائی کو بھی پہچان لیا، اور جان گئے کہ یہی وہ دشمن ہے جو انسان پر آگے پیچھے دائیں اور بائیں سے حملہ آور ہوتا ہے، اسے گناہ کا وسوسہ دلاتا ہے، خفیہ شہوتوں کو ابھارتا ہے۔ چنانچہ آپ اپنے دشمن ابلیس پر ظفر یابی کے لیے اللہ سے مدد مانگتے رہے اور اپنی زندگی میں اس پر غالب بھی رہے، جیسا کہ آپ کی سیرت سے یہ چیز ظاہر ہے۔ قرآنِ کریم میں آدم علیہ السلام اور شیطان کے درمیان پیش آنے والے واقعہ سے یہ بات بخوبی جانی جا سکتی ہے کہ آدم علیہ السلام ہی سے انسانوں کا آغاز ہے اور اسلام کا حقیقی جوہر یہ ہے کہ اللہ ذات واحد کی مطلقاً عبادت کی جائے، نیز یہ کہ انسان غلطیوں اور گناہوں کا مرتکب ہوسکتا ہے۔ آدم علیہ السلام کی لغزش سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ مسلمان کا اپنے رب پر بھروسہ کرنا بے حد ضروری ہے، اور یہ کہ مومن کی زندگی میں توبہ واستغفار کی بڑی اہمیت ہے۔ اسے حسد اور تکبر سے بچنا چاہیے۔ نیز یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ اور ان کے بارے میں بہترین انداز میں گفتگو کرنے کی بہت زیادہ اہمیت ہے، اس لیے کہ اللہ کا فرمان ہے: وَقُلْ لِعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ إِنَّ الشَّيْطَانَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوًّا مُبِينًا (الاسراء:۵۳) ’’اور میرے بندوں سے کہہ دیجیے کہ وہ بہت ہی اچھی بات منھ سے نکالا کریں، کیونکہ شیطان آپس میں فساد ڈلواتا ہے۔ بے شک شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے۔‘‘ آپ نے اپنے رفقاء اور ساتھیوں کی عبادات کے ذریعہ سے روحانی تربیت ان کی قلبی تطہیر اور ان کو قرآن کی روشنی میں متعین کیے ہوئے اخلاق کریمہ کا عادی بنانے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقۂ تربیت کو اختیار کیا۔ اللہ جل شانہ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اسلام کے ذریعہ سے عزت عطا فرمائی، وہ اسلام جس نے آپ کے سامنے صاف اور صحیح عقیدہ پیش کیا، پھر اس عقیدہ نے آپ کے پہلے عقیدہ کو پیچھے چھوڑ دیا، اور آپ کے دل سے اسے فنا کے گھاٹ اتار دیا، اس طرح بت پرستی کے ستون منہدم ہو گئے، کسی بت کے لیے قربت کا تصور نہ رہا، اللہ کی بیٹیاں ہونے کا عقیدہ نہ رہا، جنات اور اللہ کے درمیان کوئی رشتہ نہ بچا، کوئی کہانت محفوظ نہ رہی جو معاشرہ [1] اصول التربیۃ / النحلاوی، ص:۳۱۔