کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 729
ہوا۔[1] اور خلیفہ بن خیاط لکھتے ہیں کہ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے رجب، شعبان، رمضان اور شوال کے مہینوں میں دمشق میں رومیوں کا محاصرہ کیا اور ذی القعدہ میں دمشق والوں نے صلح کی۔[2] بہرحال کوئی بھی تاریخ ہو لیکن اتنا طے ہے کہ فتح دمشق معرکہ یرموک کے بعد پیش آئی۔[3] بعض جنگی اصولوں کا عملی نفاذ: مسلمانوں کے نزدیک ایک زمانے سے جو کامیاب جنگی اصول چلے آرہے تھے فتح دمشق بھی اس سے خالی نہ رہی۔ چنانچہ اچانک حملہ کرنا، پیش قدمی کرنا، موقع سے فائدہ اٹھانا اور میدانی قائدین کی جدت طرازیاں، یہ سب کچھ اس میں بھی دیکھنے کو ملیں، ہم دیکھ چکے ہیں کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کس طرح صحیح نشانے کی تلاش میں کامیاب ہوئے اور خندق عبور کرنے اور فصیل پر چڑھنے کے لیے نہایت موزوں جگہ تلاش کر لی۔ سابقہ منصوبہ بندی میں یکا یک کیسی تبدیلی لائے اور محاصرہ کی کارروائی چھوڑ کر دمشق میں داخل ہونے کی اقدامی کارروائی میں لگ گئے۔ رسی کے پھندوں کو سیڑھی کے کام میں لا کر دمشق کی فصیلوں پر چڑھنے کی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی اس حکیمانہ کارروائی کا موازنہ جب ہم جدید دور میں مصری فوج کی اس تدبیر سے کرتے ہیں جو اس نے ۱۹۷۳ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل کی دفاعی لائن بارلیف کو پار کرنے اور اسرائیل کے ممنوعہ دفاعی خطے میں گھسنے کے لیے اختیار کی تھی اور رسیوں میں پھندا بنا کر انہیں سیڑھیوں کے کام میں لائے تھے، تو دونوں میں مکمل اتحاد ویکسانی نظر آتی ہے۔ ساتھ ہی اسلامی فتوحات میں مسلمانوں کی بے مثال صلاحیت اور عبقریت بھی سامنے آتی ہے۔ پس ہمیں اپنے ماضی کو فراموش نہ کرنا چاہیے کہ دور جدید کی ہماری جنگی تدبیریں بھی اس قدیم جدت پسندی اور عبقریت کا ایک حصہ ہیں۔[4] فتح دمشق سے متعلق بعض اشعار: قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: أقمنا علی داری سلیمان اشہرًا بخالد روما وقد حملنا بصارم ’’سلیمان بن داود کی دونوں بستیوں (تدمر و دمشق) میں فاتح روم خالد کے ساتھ ہم نے کئی مہینے گزارے اور تیغ براں سے حملہ کیا۔‘‘ قصصنا إلی الباب الشرقی عنوۃ فدان لنا مستسلمًا کل قائم ’’لڑائی کرتے ہوئے ہم مشرقی دروازہ کی طرف بڑھے، تو وہاں ہر شخص نے ہماری اطاعت قبول کرلی۔‘‘ [1] الہندسۃ العسکریۃ، ص:۱۹۲۔ البدایۃ والنہایۃ: ۷؍۲۰۔ [2] الہندسۃ العسکریۃ، ص:۹۲، ۱۹۳۔ [3] الہندسۃ العسکریۃ، ص: ۱۹۲۔ [4] ترتیب وتہذیب البدایۃ والنہایۃ، ص: ۵۶۔