کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 726
اہم مقام حاصل تھا اور روم کو اس کے ہاتھ سے نکل جانے اور ایرانیوں کے اس پر غالب آجانے کا خطرہ لگا رہتا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ رومیوں نے جنگی نظم و نسق کی مہارت وکوشش سے آزاد و بے فکر ہو کر اور مناسب ترین تعمیری ذرائع کو استعمال کر کے پوری آزادی کے ساتھ اپنی دفاعی تدابیر کو کافی منظم ومستحکم کیا تھا۔ مزید برآں تعمیری امکانات کی جو آسانیاں رومی فوج کو فراہم تھیں وہ انہی کا حصہ تھیں۔ * شہر دمشق کے چاروں طرف مستحکم رکاوٹوں کے وجود سے تعمیری ایجادات و اختراعات میں رومیوں کی صلاحیت نمایاں ہوتی ہے چنانچہ اختراعات کی انہی صلاحیتوں کی وجہ سے رومیوں کے جنگی ماہرین نے منظم (فصیل، خندق اور برجوں) کی ایجاد کے لیے زمین کی طبعی استواری حیثیت سے فائدہ اٹھایا، بالخصوص فصیل کے چاروں طرف کھودی ہوئی نہر کو بھرنے کے لیے دریائے بردی کو وقف کرکے اپنی جنگی فنی مہارت کا ثبوت دیا۔ مزید برآں اسے ان کئی اسباب کے لیے استعمال کیا جن کے ذریعہ سے شمال اور شمال مشرق کے راستے دشمن کے کسی بھی حملہ کو ناکام بنایا جا سکے۔ * رومی قیادت کو دمشق کی فصیل بند خندق اور دیگر حفاظتی اسباب پر بہت زیادہ اعتماد تھا اور یہی وجہ تھی کہ وہ مختلف مقامات سے اپنا لشکر وہاں اکٹھا کر رہی تھی اور مکمل دفاعی پوزیشن میں تیار تھی اور دوسری طرف حمص میں بھی اس کی افواج آپسی اختلافات بھلا کر مسلمانوں پر حملہ کی کارروائی کے لیے متحد ہو چکی تھیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ دفاع کے سلسلہ میں میدانی جنگی تدابیر رومیوں کو مجبور کر رہی تھیں کہ وہ کسی طرح ان دفاعی پہلوؤں کو اختیار کریں اور بالآخر رومیوں میں جنگی قرارداد پاس ہونے کی یہی چیز اہم سبب بن بھی گئی۔ لہٰذا میدان جنگ کی کارروائیوں سے پیشتر جنگی فنون کی تمام تدبیروں و باریکیوں کا دقت سے جائزہ لینا از حد ضروری ہے۔ * اس کے برعکس رومیوں کی میدانی جنگی تدابیر نے مسلمانوں کے لشکر کو دمشق میں گھسنے اور اس پر کسی بھی طرح حملہ کرنے سے روک دیا۔ رومیوں کے مستحکم حفاظتی بندوبست ان کے سامنے پہاڑ بن کر کھڑے ہوگئے اور مجبوراً اسلامی فوج کو اقدامی کارروائی چھوڑ کر ’’محاصرہ‘‘ کا طریقہ اختیار کرنا پڑا۔ * تاریخی مصادر بتاتے ہیں کہ دمشق کا محاصرہ (۷۰) ستر دنوں تک جاری رہا اور کافی سخت محاصرہ تھا۔ منجنیق اور منجنیق کا استعمال کیا گیا اور بڑے بڑے پتھروں کو فصیل کے اندر پھینکا گیا۔[1] ۳: رفتار جنگ: سیّدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے اپنی فوج کو ترتیب دیا اور دمشق کی طرف آگے بڑھے۔ فوج کی ترتیب اس طرح تھی: [1] تاریخ الطبری: ۴/۲۵۸، الہندسۃ العسکریۃ، ص:۱۸۹۔ [2] الیرموک وتحریر دیار الشام، شاکر محمود، ص: ۱۰۳۔ [3] الہندسۃ العسکریۃ، ص:۱۸۹۔ [4] الہندسۃ العسکریۃ، ص:۱۹۰۔