کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 72
’’اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی چیز اس کو عاجز کر دے، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔ وہ بڑے علم والا بڑی قدرت والا ہے۔‘‘ اور یہ کہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے: ذَلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ (الانعام:۱۰۲) ’’یہ ہے اللہ تعالیٰ تمہارا ربّ، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، تو تم اس کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز کا کارساز ہے۔‘‘ قضا وقدر کا حقیقی معنی ومفہوم، اور اسی پر پختہ عقیدہ کی وجہ سے آپ کی زندگی میں نفع بخش اور نہایت مفید نتائج ظاہر ہوئے جسے آپ ان شاء اللہ اس کتاب میں جا بجا ملاحظہ فرمائیں گے۔ آپ نے قرآن کے ذریعہ سے اپنے اور دیگر بنی نوع انسان کے وجود کی حقیقت کو جانا اور یہ معرفت حاصل کی کہ انسان کی بس دو ہی بنیادیں ہیں جہاں سے وہ وجود میں آیا: پہلی بنیاد سے مراد مٹی سے اس کی پہلی خلقت ہے، جب کہ اللہ نے اسے سنوارا اور اس میں روح پھونکی۔ اور دوسری بنیاد سے مراد نطفہ سے انسان کا وجود میں آنا ہے۔[1]ارشادِ ربانی ہے: الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ (7) ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِنْ سُلَالَةٍ مِنْ مَاءٍ مَهِينٍ (8) ثُمَّ سَوَّاهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِنْ رُوحِهِ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ (9) (السجدۃ: ۷۔۹) جس نے اچھا بنایا ہر چیز کو جو اس نے پیدا کی اور انسان کی پیدائش تھوڑی سی مٹی سے شروع کی۔پھر اس کی نسل ایک حقیر پانی کے نطفے سے بنائی۔پھر اسے درست کیا اور اس میں اپنی ایک روح پھونکی اور تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے۔ تم بہت کم شکر کرتے ہو۔ ‘‘ آپ نے پہچان لیا کہ اس انسان کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے وجود بخشا، اسے بہترین صورت اور معتدل قد و قامت سے مکرم ومحترم بنایا۔ اسے عقل، گویائی اور اچھے برے کی تمیز کا ملکہ عطا فرمایا، زمین اور آسمان کی چیزوں کو اس کے لیے مسخر کردیا، اسے اپنی دیگر مخلوقات پر فضیلت وبرتری سے نوازا، اس کے لیے اپنے رسولوں کو مبعوث فرما کر اسے سرفراز کیا، اور انسان کی عزت وتکریم کا سب سے اعلیٰ وافضل مظہر اس نے یہ عطا کیا کہ اسے ہی اپنی محبت اور رضا مندی کے لیے منتخب کیا، جو صرف اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہی سے میسر آسکتی ہے، جس نے لوگوں کو دین اسلام کی دعوت دی تاکہ سارے انسان دنیا میں پاک اور بہترین زندگی گزار سکیں اور آخرت میں [1] الرقۃ والبکاء / عبداللہ بن احمد المقدسی، ص: ۱۶۶