کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 716
سنتوں کو اختیار کیا تو اللہ نے انہیں فارسیوں پر غلبہ عطا کیا۔ احنف بن قیس تاریخ کا دھارا موڑتے ہیں: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ اپنی اس رائے پر قائم تھے کہ صرف فتوحات فارس پر اکتفا کریں اور بلاد مشرق (عجم) میں زیادہ اندر تک اپنی فوج نہ گھسنے دیں۔ خاص طور سے اس لیے بھی کہ اب ہرمزان کی شوکت ٹوٹ چکی تھی اور مسلمانوں نے اہواز فتح کر لیا تھا۔ آپ نے اپنی رائے کا اظہار ان لفظوں میں کیا: ’’میرے لیے اہل بصرہ اور باشندگان اہواز کافی ہیں، میں چاہتا ہوں کہ ہمارے اور فارس والوں کے درمیان آگ کا پہاڑ (زبردست رکاوٹ) حائل ہو جائے کہ نہ وہ ہم تک پہنچ سکیں اور نہ ہم ان تک‘‘ اور کوفہ والوں کے بارے میں کہا کہ: ’’میں چاہتا ہوں کہ ان کے اور پہاڑ کے درمیان آگ کا پہاڑ قائم ہو جائے، نہ وہ ہم تک آسکیں اور نہ ہم ان تک۔‘‘ آپ نے وفد سے اس معاملے میں صلاح ومشورہ کیا تو احنف نے کہا: اے امیرالمومنین! میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر آپ نے بلاد مشرق میں پیش قدمی کرنے سے ہمیں روک دیا اور صرف مقبوضہ علاقوں پر اکتفا کرنے کا حکم دیا اور خاص طور سے ایسی حالت میں جب کہ شاہ فارس ابھی زندہ ہے اور اسی کے بل بوتے پر وہ ہمیں برا بھلا کہتے بھی رہتے ہیں، اگر کوئی بادشاہ پہلے کی مخالفت میں کھڑا ہو تو دونوں میں سے کسی نہ کسی نے دوسرے کو باہر نکال ہی دیا، تو میرا خیال ہے کہ جب تک ہم انہیں مزید شکست دینے میں جلدی نہیں کریں گے ہمارا کوئی فائدہ ہونے والا نہیں۔ بلا شبہ ان کا بادشاہ ہی انہیں بار بار جنگ پر ابھارنے کا اصل محرک ہے۔ اس کی رعایا کی یہی عادت رہی ہے اور رہے گی۔ آپ ہمیں اجازت دیں کہ ان کے شہروں میں گھس جائیں، شاہ فارس کو اس کی حکومت ومملکت سے باہر نکال دیں، تبھی اہل فارس کی امیدوں کی رگیں کٹیں گی اور وہ رنج والم کے مارے ہوں گے۔[1] سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے یہ سب سن کر احنف سے کہا: یقینا تم نے سچ کہا اور مدعا کی توضیح وتشریح کا حق ادا کر دیا، پھر آپ نے انہی کو بلاد فارس پر فوجی کارروائی کا حکم دے دیا اور معاملہ انہی کی رائے پر ختم ہوگیا۔ اس وقت احنف کی فضیلت اور صدق گوئی ابھر کر سامنے آئی اور سب نے فاتحانہ قدم آگے بڑھائے۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے خراسان کا جھنڈا احنف کے ہاتھوں میں دیا اور مجاہدوں کے قائدین و بہادروں کے درمیان چھوٹے چھوٹے علم تقسیم کیے، پھر جنگ کی جغرافیائی حالت اور پیش قدمی کا نقشہ بتایا اور ان کے آگے بڑھتے ہی پیچھے سے امدادی افواج کو بھیجنا شروع کر دیا۔[2]  [1] السنن الإلٰہیۃ ، ص: ۲۱۰۔