کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 714
۶: سرکشی اور سرکشوں کے بارے میں قانون الٰہی: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ (14)(الفجر: ۱۴) ’’یقینا تیرا رب گھات میں ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں تمام گناہ گاروں کو وعید الٰہی ہے اور بعض کے نزدیک صرف کافروں کو وعید ہے۔[1] اور تفسیر قرطبی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان پر نگاہ لگائے ہوئے ہے تاکہ وہ انہیں پورا پورا بدلہ دے۔[2] یہ اور اس طرح کی تمام آیات میں مفسرین کے اقوال سے یہ ظاہر ہے کہ سرکش اقوام پر دنیا ہی میں اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ یہ ہمیشہ سے اللہ کی سنت رہی ہے، ماضی میں سرکش اقوام نے اس کا مزہ چکھا، حال میں چکھ رہی ہیں اور مستقبل میں بھی چکھیں گی۔ دنیا کا کوئی سرکش عذاب الٰہی سے نہ دنیا میں بچ پائے گا اور نہ آخرت میں۔[3] سرکشوں کے بارے میں عذاب الٰہی کی جو سنت ہمیشہ سے جاری ہے اس سے صرف اللہ سے ڈرنے والا اور اس پر کامل ایمان رکھنے والا ہی عبرت پکڑتا ہے اور وہ شخص نصیحت پکڑتا ہے جسے یقین ہے کہ اللہ کا قانون اٹل ہے وہ کسی کے ساتھ ناانصافی کرنے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کے برے انجام کا ذکر کرنے کے بعد سرکشوں کے لیے متعین کردہ قانون الٰہی سے عبرت پکڑنے والوں کو اس طرح ذکر کیا ہے: ﴿فَأَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَى (25) إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِمَنْ يَخْشَى (26)(النازعات: ۲۵۔۲۶) ’’تو (سب سے بلند وبالا) اللہ نے بھی اسے آخرت کے اور دنیا کے عذاب میں گرفتار کر دیا۔ بے شک اس میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو ڈرے۔‘‘ اسی نظام الٰہی کے تحت متمرد شاہان فارس عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے۔ ۷: بتدریج اعمال کی انجام دہی کا قانون الٰہی : اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ کسی چیز کو بتدریج انجام دیتا ہے۔ اسی قانون الٰہی کے تحت عراق و بلاد مشرق (عجم) فتح ہوئے۔ چنانچہ عہد صدیقی سے پہلے مرحلے کا آغاز ہوا، بایں طور کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں حیرہ کی فتح مکمل ہوئی۔ دوسرا مرحلہ ابوعبید ثقفی کے ہاتھوں عراقی فوجوں کی قیادت سے شروع ہو کر معرکہ بویب پر اور تیسرا مرحلہ جہاد عراق میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی امارت سے لے کر معرکہ نہاوند سے قبل تک ختم ہوتا ہے، جب کہ چوتھا مرحلہ معرکہ نہاوند کا اور پانچواں مرحلہ بلاد عجم میں فتوحات کے عام دروازے کھل جانے کا ہے۔ ان فتوحات اور [1] السنن الإلٰہیہ فی الأمم والجماعات والأفراد، ص: ۱۱۹تا ۱۲۱۔ [2] تفسیر الآلوسی: ۱۵/۴۲۔