کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 703
خواہ مشرک لوگ برا جانیں۔‘‘ پس شکر ہے اس اللہ واحد کا جس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور اپنے لشکر کی مدد کی۔ سن لو! آج اللہ نے مجوسی بادشاہت کو زمین بوس اور ان کے اتحاد کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اپنی حکومت کی ایک بالشت زمین کی بھی ملکیت اب ان کے ہاتھوں میں نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو نقصان پہنچا سکیں۔ سن لو! اللہ نے اب تم کو ان کی زمین، جائداد، مکانات اور رعایا کا وارث بنا دیا ہے تاکہ دیکھے کہ تم کیسے کرتے ہو، لہٰذا ہمیشہ چوکنے رہو، تم سے اپنا وعدہ پورا کرے گا۔ تم اپنے اندر تبدیلی نہ پیدا کرنا کہ وہ تمہارے بدلے دوسری قوم کو لے آئے گا۔ مجھے اس امت محمدیہ پر اس کے داخلی فتنوں ہی سے خوف ہے۔[1] فتح اصطخر۲۳ھ: مسلمانوں نے ۲۳ ہجری میں اصطخر کو دوبارہ فتح کیا۔ اس لیے کہ وہاں کے باشندوں نے بدعہدی کی تھی۔ اسے پہلی مرتبہ بحرین کی سر زمین سے دریا عبور کر کے علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی فوج نے فتح کیا تھا۔ مقام طاؤس میں اسلامی اور فارسی افواج کے درمیان لڑائی ہوئی تھی اور ’’ہربذہ‘‘ نے جزیہ پر مصالحت کر لی تھی، لیکن شہرک نے عہد توڑ دیا، فارسیوں کو ابھارا اور انہوں نے بھی عہد توڑ دیا۔ ان کی سرکوبی کے لیے عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے اور بھائی کو حکم بھیجا، انہوں نے فارسیوں کے چھکے چھڑا دیے، اللہ نے مشرکوں کے لشکر کو شکست دی اور حکم بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے شہرک کو قتل کردیا۔[2] ’’فسا‘‘ اور ’’دارابجرد‘‘ کی فتح ۲۳ ہجری: ساریہ بن زنیم رضی اللہ عنہ نے حکم فاروقی کے بموجب ’’فسا‘‘ اور ’’دار ابجرد‘‘ کا رخ کیا۔ مقابلہ کے لیے ایرانیوں اور کردوں کا بہت بڑا لشکر تیار کھڑا تھا۔ مسلمان اسے دیکھ کر گھبرا گئے۔ اسی رات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خواب میں میدان جنگ اور دشمن کی تعداد دیکھی، آپ نے یہ بھی دیکھا کہ اسلامی فوج کھلے میدان میں ہے، ان کے پیچھے پہاڑ ہے، اگر وہ اسے اپنی پشت بنا لیں تو صرف ایک ہی طرف سے انہیں دشمن کا خطرہ رہے گا۔ چنانچہ صبح ہوئی تو آپ نے ’’ اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ.‘‘کی منادی کرائی اور جب وہ وقت آگیا جس میں جنگ چھڑنے کو آپ نے دیکھا تھا تو لوگوں کے پاس آئے اور منبر پر تشریف لے گئے۔ لوگوں کو اپنے خواب کی تفصیل بتائی اور بلند آواز سے کہا: ’’یا ساریۃ الجبل! اے ساریہ پہاڑ کی طرف ہٹ جاؤ۔ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: اللہ کی افواج ہوتی ہیں، شاید کہ ان میں سے کوئی میری بات مسلمانوں کو پہنچا دے۔ راوی کا بیان ہے کہ ساریہ نے عمر رضی اللہ عنہ کی [1] تاریخ الطبری (۵/۱۶۰)۔