کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 702
’’اور اللہ نے ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، ان کے غصے سمیت لوٹا دیا، انھوں نے کوئی بھلائی حاصل نہ کی اور اللہ مومنوں کو لڑائی سے کافی ہوگیا اور اللہ ہمیشہ سے بے حد قوت والا، سب پر غالب ہے۔ ‘‘ کسریٰ یزدگرد، زبردست نقصان اٹھا کر واپس لوٹا، اس کی پیاس نہ بجھی، نہ کوئی بھلائی ہاتھ آئی اور نہ اپنی امید کے مطابق اسے کامیابی ملی، بلکہ جس پر امداد کی امید لگائے بیٹھا تھا وہی بھاگ کھڑا ہوا، یزدگرد کے سامنے اب اندھیرا ہی اندھیرا تھا، اب وہ نہ ادھر کا تھا نہ ادھر کا: ﴿وَمَنْ يُضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا(النساء: ۸۸) ’’اور جسے اللہ راہ بھلا دے تو ہرگز اس کے لیے کوئی راہ نہ پائے گا۔‘‘ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب کیا کرے اور کہاں جائے؟ مدد کا آخری سہارا چین کے بادشاہ کے پاس اپنا قاصد بھیج کر اس سے مدد طلب کی۔ بادشاہ نے قاصد سے پوچھا کہ ہمیں اس قوم کے بارے میں کچھ بتاؤ جس نے بڑے بڑے شہروں کو فتح اور سرداروں اور سورماؤں کو غلام بنا لیا ہے۔ قاصد نے مسلمانوں کا تعارف پیش کیا اور بتایا کہ وہ کس طرح گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار ہوتے ہیں، کیا کرتے ہیں اور کیسے نماز پڑھتے ہیں۔ بادشاہ نے قاصد کے ہاتھوں یزدگرد کے نام جوابی خط تحریر کیا کہ ایسا لشکر جرار جس کا اگلا سرا ’’مرو‘‘ میں اور آخری سرا چین میں ہوگا، اسے بھیجنے میں یہ بات میرے سامنے رکاوٹ نہیں بنتی کہ میں اپنی ذمہ داری سے ناواقف ہوں۔ نہیں، بلکہ تمہارے قاصد نے اس قوم (یعنی مسلمانوں) کی جو صفت بیان کی ہے، میرے خیال سے اگر وہ پہاڑ سے ٹکرا جائیں تو اسے بھی چُور چُور کر دیں گے۔ پس اگر میں تمہاری مدد کے لیے آگے آتا ہوں تومیرا انجام بالکل ظاہر ہے۔ یزدگرد مرتا کیا نہ کرتا، مجبور ہو کر مسلمانوں سے صلح کی درخواست کرنے لگا اور ان کی شرائط پر صلح کر لی۔ اس طرح کسریٰ اور آل کسریٰ سلطنت اسلامیہ کے بعض شہروں میں ذلت و رسوائی کی زندگی گزارتے رہے۔ یہاں تک کہ دور عثمانی میں اسے قتل کر دیا گیا۔[1] اور جب احنف نے فتح کی خوشخبری، ترک سپاہیوں سے چھینے ہوئے اموال غنیمت، ان کے سخت جانی نقصان اور نامراد واپسی کی تفصیل لکھ کر سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجی تو خط پانے کے بعد آپ منبر پر تشریف لے گئے، چند آیات قرآنی کی تلاوت کی گئی اور پھر آپ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت دے کر مبعوث کیا اور ان کے متبعین سے دیر سویر دنیا وآخرت کی بھلائی اور ثواب دینے کا وعدہ کیا، فرمایا: ﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (التوبۃ: ۳۳) ’’وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے، [1] تاریخ الطبری: ۵/ ۱۵۹۔ [2] معجم الطبرانی الکبیر۔ امام البانی نے کہا کہ یہ موضوع روایت ہے۔ دیکھئے: سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ ، حدیث نمبر ۱۷۴۷۔