کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 70
دونوں نے عرض کیا کہ ہم بخوشی حاضر ہیں۔ پس دو دن میں سات آسمان بنا دیے اور ہر آسمان میں اس کے مناسب احکام کی وحی بھیج دی، اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے زینت دی اور نگہبانی کی۔ یہ تدبیر اللہ غالب ودانا کی ہے۔‘‘ یہ زندگی خواہ کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو بہرحال اس کا انجام زوال ہے، اس کے مال ومتاع کتنے ہی زیادہ گراں قدر کیوں نہ ہوں بہرحال وہ حقیر اور کمتر ہیں۔ اللہ کا ارشاد ہے: إِنَّمَا مَثَلُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنْزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعَامُ حَتَّى إِذَا أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَادِرُونَ عَلَيْهَا أَتَاهَا أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَاهَا حَصِيدًا كَأَنْ لَمْ تَغْنَ بِالْأَمْسِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (یونس:۲۴) ’’دنیا کی زندگی کی مثال تو بس اس پانی کی سی ہے جسے ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے ساتھ زمین سے اگنے والی چیزیں خوب مل جل گئیں، جس سے انسان اور چوپائے کھاتے ہیں، یہاںتک کہ جب زمین نے اپنی آرائش حاصل کرلی اور خوب مزین ہوگئی اور اس کے رہنے والوں نے یقین کر لیا کہ بے شک وہ اس پر قادر ہیں تو رات یا دن کو اس پر ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اسے کٹی ہوئی کر دیا، جیسے وہ کل تھی ہی نہیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کے لیے آیات کھول کر بیان کرتے ہیں جو خوب سوچتے ہیں۔‘‘ جنت کے بارے میں آپ کا نظریہ ان آیات پر قائم تھا جو اس کی صفات کو بتاتی ہیں۔ اس طرح آپ کی زندگی کا حال ان پاکیزہ نفوس کی طرح تھا جن کے بارے میں ارشادِ الٰہی ہے: تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (16) فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (17) (السجدہ: ۱۶۔۱۷) ’’ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے پکارتے ہیں اور ہم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ پس کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے، اس عمل کی جزا کے لیے جو وہ کیا کرتے تھے۔ ‘‘ جہنم کے بارے میں بھی آپ کا تصور قرآنی آیات ہی پر قائم تھا، اور یہی تصور آپ کو آپ کی زندگی میں شریعت الٰہیہ سے کسی بھی انحراف سے روکتا تھا۔ چنانچہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی زندگی کا گہرائی سے مطالعہ کرنے والا [1] منہج الرسول فی غرس الروح الجہادیۃ، ص: ۱۰ تا ۱۶