کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 698
فتح آذربائیجان ۲۲ھ: نعیم بن مقرن رضی اللہ عنہ نے جب ہمدان کو دوبارہ فتح کیا اور پھر رے کو فتح کر لیا تو بکیر بن عبداللہ کو ہمدان سے آذربائیجان[1] پر فوج کشی کرنے کا حکم دیا اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف سے اجازت مل جانے کے بعد ان کے پیچھے ہی سماک بن خرشہ کو روانہ کیا، ساتھ ہی ابودجانہ رضی اللہ عنہ کو بھی مسلح کیا۔ سماک اپنی فوجی کمک لے کر ابھی بکیر تک نہ پہنچے تھے کہ اسفندیاذ بن فرخزاد کی جمعیت نے بکیر اور ان کی فوج سے جنگ چھیڑ دی۔ لیکن الحمد للہ مشرکین کو شکست ہوئی اور اسفندیاذ کو بکیر نے گرفتار کر لیا۔ پھر پوچھا تم صلح چاہتے ہو یا جنگ؟ اس نے کہا: صلح۔ بکیر نے کہا: پھر مجھے اپنے یہاں ٹھہرنے دو۔ اس نے کہا ٹھیک ہے۔ بکیر وہاں ٹھہر کر آذربائیجان کا ایک ایک شہر فتح کرتے رہے اور عتبہ دوسری سمت سے آذربائیجان کے ایک ایک شہر اور بستی کو فتح کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ اسی دوران میں عمر رضی اللہ عنہ کا خط موصول ہوا کہ بکیر، عتبہ بن فرقد کو لے کر ’’باب‘‘ کی طرف پیش قدمی کریں اور سماک کو عتبہ کا نائب بنا دیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے آذربائیجان کے تمام شہروں و بستیوں کی فوج کو عتبہ بن فرقد کے تابع کر دیا اور بکیر نے اسفندیاذ کو آذربائیجان میں چھوڑا، پیش قدمی کے دوران عتبہ بن فرقد کی فوج بہرام بن فرخزاد کی فوج سے ٹکرا گئی۔ عتبہ نے اسے شکست دی اور بہرام وہاں سے بھاگ نکلا،جب اسفندیاذ کو اس ہزیمت کی خبر ملی تو اس نے کہا: صلح اب مکمل ہوئی اور جنگ کی آگ بجھ گئی۔ پھر وہاں کے باشندوں نے عتبہ سے صلح کی درخواست کی، جسے آپ نے منظور کر لیا اور اسلامی فوج بسلامت آذربائیجان میں واپس لوٹی۔ عتبہ اور بکیر دونوں نے فتح کی خبر کے ساتھ مال غنیمت کا خمس بھی عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور جب آذربائیجان کی امارت عتبہ کو سونپی گئی تو آپ نے اس کے باشندوں کے لیے امان وصلح نامہ تحریر فرمایا۔[2] فتح باب ۲۲ ھ: سیّدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ’’باب‘‘ فتح کرنے کے لیے سراقہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو جو ذی النور کے لقب سے مشہور تھے سالار لشکر نامزد کرتے ہوئے خط روانہ کیا۔ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے سراقہ اپنی پوری تیاری کے ساتھ نکل پڑے۔ مقدمۃ الجیش کے امیر عبدالرحمن بن ربیعہ جب شاہ آرمینیہ شہربراز سے باب[3] میں ملے تو شہربراز نے عبدالرحمن بن ربیعہ کے سامنے خود سپردگی اور طلب امان کی درخواست کی۔ واضح رہے کہ شہربراز کا اس شاہی گھرانے سے تعلق تھا جس نے قدیم زمانے میں بنی اسرائیل کو قتل اور شام کو تہ و بالا کیا تھا۔ چنانچہ عبدالرحمن نے اسے امان دے دی۔ وہ آپ کے سامنے آیا اور یہ تاثر دیا کہ اس کا میلان مسلمانوں کی طرف ہے اور وہ ان کا خیرخواہ ہے۔ عبدالرحمن نے کہا: میرے اوپر بھی ایک ذمہ دار ہے، جاؤ اور اس سے اپنی بات کہو۔ اس طرح آپ نے [1] تاریخ الطبری: ۵/ ۱۳۴۔ [2] قزوین سے ۲۷ فرسخ کی دوری پر ایک مشہور شہر ہے۔ [3] تاریخ الطبری: ۵/ ۱۳۶، ۱۳۷۔ [4] ریّ اور نیساپور کے درمیان طبرستان کے پہاڑی سلسلہ کے آخری حصہ پر واقع ہے۔ [5] طبرستان اور خراسان کے درمیان ایک بڑا شہر ہے۔ [6] طبرستان کثیر پہاریوں پر مشتمل ایک وسیع ملک ہے، وہاں بہت سارے علماء اور ادباء پیدا ہوئے اور شہرت پائی۔ [7] تہذیب البدایۃ والنہایۃ، ص۱۶۱۔