کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 697
آپ کی خاموشی توڑی، آپ نے پوچھا: کیا بشیر ہے؟ نعیم رضی اللہ عنہ کے قاصد نے کہا: نہیں بلکہ عروہ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ پوچھا: کیا بشیر ہے؟ اب کی بار قاصد نے سمجھ لیا اور کہا: جی ہاں، بشیر ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: نعیم اور سماک بن عبید کے قاصد؟ اس نے کہا: جی ہاں نعیم کا قاصد۔ آپ نے پوچھا: کیا خبر لائے ہو۔ اس نے کہا: فتح کی بشارت۔ پھر پوری تفصیل آپ کے سامنے رکھ دی۔ آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور نعیم کے خط کو لوگوں کے سامنے پڑھنے کا حکم دیا۔ خط پڑھ کر سنایا گیا، لوگوں نے اللہ کی تعریف کی۔ پھر سماک بن مخرمہ، سماک بن عبید، اور سماک بن خرشہ خمس کا مال لے کر وفد کے ساتھ آ پہنچے، آپ نے ان سے ان کا نسب دریافت کیا، آپ کو سماک، سماک اور سماک کے ذریعہ سے نسب کے متعلق بتایاگیا، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا فرمائے۔ اے اللہ! ان کے ذریعہ سے اسلام کو سر بلندی عطا کر اور اسلام کے ذریعہ سے ان کی تائید فرما۔[1] فتح رَے ۲۲ھ: نعیم بن مقرن رضی اللہ عنہ نے ہمدان پر یزید بن قیس ہمدانی کو اپنا نائب بنایا اور خود لشکر لے کر رَے[2] جا پہنچے۔ وہاں مشرکین کی ایک بھاری فوج سے مڈبھیڑ ہوئی اور رے کے دامن کوہ میں جنگ لڑی گئی۔ مسلمانوں نے صبر وہمت کا ثبوت دیا۔ بالآخر مشرکوں کی فوج شکست سے دوچار ہوئی۔ نعیم بن مقرن رضی اللہ عنہ خاص طور پر بڑی بے جگری سے لڑے اور بہت زیادہ لوگوں کو تہ تیغ کیا۔ فتح میں اتنا مال غنیمت ہاتھ آیاجتنا کہ انہوں نے مدائن میں حاصل کیا تھا۔ ابو الفرخان، جو زینبی کے لقب سے مشہور تھا، اس نے صلح کی درخواست کی اور اسے امان دے دی گئی۔ اس کے بعد نعیم رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس مال غنیمت کا خمس بھیجا اور فتح کی بشارت دی۔[3] قومیس اور جرجان کی فتح ۲۲ھ: جب رے کی فتح کا مژدہ سنانے اور خمس لانے والا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو آپ نے اسی کے ہاتھ نعیم بن مقرن رضی اللہ عنہ کے نام ایک خط تحریر کیا کہ اپنے بھائی سوید بن مقرن کو قومیس[4] فتح کرنے کے لیے بھیج دو۔ سوید فوج لے کر وہاں پہنچے، آپ سے کوئی مزاحمت نہ ہوئی اور وہاں کے باشندوں نے مصالحت کر لی، آپ نے ان کو امان دے دی اور مصالحت منظور کر لی۔ سوید نے جب قومیس پر لشکر کشی کی تو جرجان[5]اور طبرستان[6] کے باشندوں نے بھی جزیہ پر رضا مندی کا اظہار کرتے ہوئے صلح کی درخواست کی۔ آپ نے سب سے صلح کر لی اور سب کو امان دینے پر اتفاق کر لیا۔[7] [1] ترتیب وتہذیب البدایۃ والنہایۃ: ۱۶۰۔