کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 693
نہ ملے خود بخود بنکروں سے باہر نہ نکلیں۔[1] چنانچہ ہر دستہ نے اپنے فرائض کو سنبھالا، قعقاع رضی اللہ عنہ نے منصوبہ بندی کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا اور انہیں اپنے مقصد میں بہتر ین کامیابی ملی۔ جب باہر نکل کر قعقاع رضی اللہ عنہ کے دستے کو دوڑاتی ہوئی ایرانی فوج نے خود کو پیچھے سے گھرا ہوا دیکھا اور دیکھا کہ مسلم فوج کی تلواریں مشرکین کی گردنوں کو گھاس کی طرح کاٹ رہی ہیں تو ان کے ہوش گم ہوگئے اور بھاگ بھاگ کر جائے پناہ تلاش کرنے لگے، انہیں کچھ نظر نہ آتا تھا، وہ اپنے ہی ہاتھوں سے کھودی ہوئی خندق اور خار دار باڑ میں پھنس کر اپنی جانیں گنوا رہے تھے اور مسلمان انہیں دوڑا دوڑا کر مارتے اور پیٹھ میں تلواریں گھونپتے۔ ہزاروں ایرانی فوج خندق میں گر کر ہلاک ہوئی اور قعقاع رضی اللہ عنہ فیرزان کو دوڑانے میں کامیاب ہوگئے۔ اسے دبوچا اور موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پھر پوری مسلم فوج نہاوند میں فاتح بن کر داخل ہوگئی۔ نہاوند کے بعد ہمدان پر بھی قبضہ ہوگیا اور اس کے بعد مسلم فوج نے بلاد فارس کے باقی ماندہ چھوٹے چھوٹے شہروں کو بلا کسی مزاحمت کے کچھ ہی دنوں میں فتح کر لیا اور نہاوند کے بعد ایرانی فوج پھر کبھی اکٹھی نہ ہو سکی۔ مسلمان ان کے شہروں اور زمین کے مالک ہوگئے۔ اس لیے معرکہ نہاوند کو ’’فتح الفتوح‘‘ کہا جاتا ہے۔[2] معرکہ نہاوند سے متعلق عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی فہم و فراست اس اعتبار سے نمایاں ہے کہ آپ نے خود اسلامی سلطنت کی مختلف ریاستوں سے اسلامی فوج کے جم غفیر کو اکٹھا تو کر ہی لیا، ساتھ ہی دشمن کو متحد ہونے کا کوئی موقع نہ دیا۔ آپ نے صرف اس پر بس نہ کیا کہ کوفہ اور بصرہ میں اپنے گورنروں اور جزیرہ عرب کے مختلف علاقوں میں دیگر قائدین کو ایرانیوں سے جنگ کرنے کے لیے اسلامی فوج تیار کرنے کا حکم دیا، بلکہ اہواز اور بلاد فارس کے بقیہ علاقوں میں مسلم قائدین وعمائدین کو حکم دیا کہ دشمن کو متحد نہ ہونے دیں۔ ان قائدین میں سلمیٰ بن القین، حرملہ بن مریطہ، زر بن کلیب اور اسود بن ربیعہرضی اللہ عنہم جیسے لوگ قابل ذکر ہیں، ان لوگوں کی ذمہ داری تھی کہ فارس اور اہواز کی سرحد پر نگاہ رکھیں اور فارسی ذمیوں کو نہاوند میں جمع ہونے والی فارسی فوج سے ملنے کا موقع نہ دیں۔ ان قائدین نے اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائی، اصفہان و فارس کی سرحد پر اچھی طرح ڈٹے رہے اور نہاوند سے امداد کے سارے راستے مسدود کر دیے۔[3] سپہ سالار کی شہادت کے وقت دیگر قائدین کی نامزدگی: ۸ ہجری بمطابق ۶۲۹ء میں معرکہ موتہ کے موقع پر جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کا سپہ سالار مقرر کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر ان کی شہادت ہو جائے تو جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور اگر ان کی بھی شہادت ہو جائے تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ لوگوں کے امیر ہوں گے، بالکل اسی سنت کو زندہ کرتے ہوئے عمر فاروق رضی اللہ عنہ [1] الفن العسکری الإسلامی، ص: ۲۸۸ [2] تاریخ الطبری: ۵/ ۱۱۳۔