کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 691
اجتماع کا علم اس وقت ہوا جب آپ کوفہ میں تھے۔ آپ نے وہیں سے امیرالمومنین کو تفصیلی صورت حال سے باخبر کیا اور مستقبل کی کارروائی کے بارے میں اجازت طلب کی۔ عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں ارکان شوریٰ کی ایک مجلس منعقد کی اور درپیش مسئلہ میں ان سے مشورہ طلب کیا، پھر سب کے مشورہ سے یہ قرارداد پاس کی کہ ایرانیوں سے ان کی آخری پناہ گاہ یعنی نہاوند میں جنگ کرنے کے لیے اسلامی فوج بھیجی جائے۔ نعمان بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہ اس وقت کسکر کے گورنر تھے اور اس سے پہلے خلیفہ کے نام یہ درخواست دے چکے تھے کہ ’’میری اور کسکر والوں کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جس کے پہلو میں کوئی بدکار دو شیزہ بن سنور کر بیٹھی ہو۔ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ مجھے کسکر سے معزول کر کے مسلمانوں کی کسی فوج کے ساتھ جہاد پر بھیج دیں۔‘‘[1] نعمان رضی اللہ عنہ کی اس درخواست کو سامنے رکھتے ہوئے مجلس شوریٰ کی دوسری قرارداد یہ پاس ہوئی کہ نہاوند میں اسلامی فوج کا سپہ سالار نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کو بنایا جائے اس کے بعد خلیفہ راشد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس منصوبہ سازی کے ساتھ اسلامی فوج کو تیار کیا: * پورے اسلامی لشکر کے سپہ سالار: کسکر کے سابق گورنر نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ ۔ * کوفہ سے جانے والی فوج کے جرنیل: حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ۔ * بصرہ سے روانہ ہونے والی فوج کے جرنیل: وہاں کے گورنر ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ۔ * مہاجرین اور انصار کی فوج کے جرنیل: عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما ۔ اور سلمیٰ بن القین، حرملہ بن مریطہ، زر بن کلیب، اسود بن ربیعہ رضی اللہ عنہم وغیرہ دیگر قائدین اسلام ’’اہواز‘‘ میں اور بلاد فارس میں جو لوگ ادھر ادھر ہیں وہ اپنی جگہوں پر تیار رہیں گے اور دشمنوں پر نگاہ رکھیں گے کہ عراقی ذمیوں اور ایرانی دشمنوں کے درمیان باہمی رابطہ نہ ہو سکے اور دشمن ذمیوں کو جنگ پر نہ ابھار سکے۔ امیرالمومنین رضی اللہ عنہ نے اس منصوبہ بندی کے ساتھ تمام ریاستوں کے گورنروں اور قائدین کو اپنی ہدایات لکھ بھیجیں اور تیس ہزار مسلم مجاہدین کو جنگ کے لیے اکٹھا کر لیا۔[2] اس طرح یہ اسلامی لشکر نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں نہاوند کی طرف روانہ ہوگیا۔ وہاں پہنچنے پر فوج کو اندازہ ہوا کہ نہاوند کافی محفوظ ہے اور پہاڑیوں سے گھرا ہوا ہے اس کے چاروں طرف خندق کھودی گئی ہے اور خندق کے سامنے چوکور خاردار تاروں کی باڑ لگا دی گئی ہے۔ چوکور کانٹوں کی ایک نوک زمین میں اور تین اوپر ہیں اور کہیں زمین پر دو اوپر ہیں اور دو نیچے۔ اس باڑ کا مقصد یہ تھا کہ حملہ آوروں کی پیش قدمی کو روکا جا سکے یا کم از کم یہ کانٹے حملے آوروں کے گھوڑوں کے پاؤں میں دھنس جائیں اور ان کے کھروں میں سوراخ ہو جائیں، پھر وہ چلنے کے قابل نہ رہیں گے اور ایرانیوں کی فوج شہر پناہ کے اندر مکمل تیاری سے ہوگی۔ ادھر مسلمانوں کی فوج میں آج وہ لوگ بھی نظر آرہے تھے جنہیں معرکہ [1] الفن العسکری الإسلامی، ص: ۲۸۴ [2] الفن العسکری الإسلامی، ص: ۲۸۵۔