کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 683
کہا: درحقیقت ہماری فوج نے اپنے کارناموں سے ہماری زبانیں کھول دی ہیں۔[1] ب: جلولاء کے مال غنیمت سے متعلق سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کا موقف: مسلمانوں کی فتح یابی کے ساتھ معرکہ جلولاء اختتام پذیر ہوا۔ اس میں کافی مقدار میں قیمتی مال غنیمت ہاتھ آیا، اس کا خمس عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا گیا۔ آپ نے جب اسے دیکھا تو کہنے لگے: اللہ کی قسم اس مال کو کسی چھت کے سائے میں رکھے جانے سے پہلے ہی میں اسے تقسیم کر دینا چاہتا ہوں۔ مسجد کے صحن میں یہ مال رکھا ہوا تھا، عبدالرحمن بن عوف اور عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہما اس کی نگرانی کر رہے تھے۔ صبح ہوئی تو آپ کی معیت میں مسجد تشریف لائے اور مال ڈھانپی ہوئی چادر کو ہٹایا۔ اس میں یاقوت، زمرد اور قیمتی جواہرات پر نگاہ پڑی تو رونے لگے۔ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیرالمومنین! آپ کیوں روتے ہیں، یہ تو خوشی اور اللہ کی شکر گزاری کا موقع ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم رونے کی وجہ یہ نہیں ہے، بلکہ جب بھی اللہ نے کسی قوم کو اس متاع دنیا سے نوازا، وہ آپس میں بغض و حسد کرنے لگی اور جب اس میں بغض وحسد کا چلن ہوا تو آپس میں دست و گریباں ہوگئے اور آپسی اختلاف نے شدت اختیار کر لی۔[2] یہ ہے زبردست ایمانی غیرت واحساس کا ایک لطیف پہلو کہ ایک کامل مومن ایمانی فراست کی نگاہوں سے مستقبل کے نتائج و اندیشوں کا اس طرح ادراک کر لیتا ہے، جو دوسروں کے وہم وخیال میں بھی نہیں آتا۔ پھر یہی خطرات واندیشے اسے مومنوں کے تئیں فکر مند کر دیتے ہیں کہ کہیں ان کے صاف شفاف ایمانی تعلقات واسلامی ہمدردی کو دنیا کی فریب کاریاں اور نیرنگیاں مکدر نہ کر دیں کہ یہی دلوں کی دوری کا اصل سبب ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں، بلکہ اس کی فکر مندی کا عالم یہ ہے کہ مجمع عام میں آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی ہے۔ یقینا ایک ایسا انسان جس کے رعب و دبدبہ سے مسلم، کافر، منافق بلکہ سارے انسان لرزتے ہوں، اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش بہت ہی حیرت واستعجاب کی بات ہے، لیکن ہمیں متحیر ہونے کی چنداں ضرورت نہیں ہے، کیونکہ یہ اس رحمت وشفقت کے آنسو تھے جسے اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے دل میں ودیعت کر دیا ہے اور وہ ایسے ہی ہو چکے ہیں جیسے کہ اللہ نے تصویر کشی کی ہے: ﴿مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا (29)(الفتح: ۲۹) [1] جلولاء کا معنی ہوتا ہے کسی چیز کو چادر وغیرہ سے ڈھانپ دینا۔ [2] تاریخ الطبری: ۴/ ۴۷۵۔