کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 681
کے لیے رحمت الٰہی کی دعائیں کرنے لگے۔ پھر آپ نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے کہا: دیکھو شام ہونے سے پہلے تم اسے فروخت کر دو اور ضرورت مندوں میں اسے تقسیم کر دو۔[1] معرکہ جلولاء: فارسیوں نے اپنے شہر جلولاء کے چوراہے میں اجتماع کیا اور ایک دوسرے کو جنگ پر ابھارا، کہا کہ اگر آج تم میں اختلاف ہوا تو پھر کبھی متحد نہیں ہو سکتے۔ یہ ایسا موقع ہے کہ ہم سب عربوں کے خلاف متحد ہو جائیں اور ان سے جنگ کریں، اگر ہم کامیاب ہوئے تو یہی ہمارا مقصد ہے اور اگر شکست سے دوچار ہوئے تو بھی کوئی عیب نہیں، کیونکہ ہم نے اپنی ذمہ داری نبھائی اور معذور رہے۔ اس کے بعد سب نے مہران رازی کی قیادت میں عربوں کے خلاف متحدہ محاذ بنایا اور اپنے شہر کے چاروں طرف خندق کھود کر اس پر لکڑی کی خاردار باڑ باندھ دی۔ البتہ جن راستوں سے گزرنا تھا ان پر باڑ نہ باندھی۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے امیرالمومنین رضی اللہ عنہ کو صورت حال کی خبر بھیجی۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے جوابی تحریر میں سعد رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں بارہ ہزار (۱۲۰۰۰) فوج جلولاء روانہ کریں۔ مقدمہ پر قعقاع بن عمرو تمیمی رضی اللہ عنہ ، میمنہ پر مسعر بن مالک، میسرہ پر عمرو بن مالک بن عتبہ اور ساقہ پر عمرو بن مرہ جہنیرضی اللہ عنہم کو مقرر کریں۔ چنانچہ ہاشم اپنی فوج لے کر روانہ ہوئے اور جلولاء کا محاصرہ کیا۔ فارسی ادھر ادھر چھپتے رہے، کبھی کبھار ہی باہر نکلتے۔ اس دوران مختلف مواقع پر مسلمانوں نے ان پر اسی (۸۰) حملے کیے اور ہر مرتبہ انہیں کامیابی ملی۔ متعدد جھڑپوں کے دوران فارسی دشمنوں کو پیچھے دھکیلا اور مسلمانوں کا راستہ روکنے کے لیے انہوں نے لکڑیوں کے جو خاردار باڑ باندھے تھے اسے توڑ دیا۔ دشمن نے دوبارہ کوشش کر کے لوہے کے خاردار باڑ باندھ دی۔ ہاشم رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں میں کھڑے ہوئے اور کہا: یہی منزل کٹھن ہے، اس کے بعد کے مرحلے آسان ہیں۔ سعد رضی اللہ عنہ نے مدد کے لیے شہ سواروں کی مزید فوجی کمک بھیجی، جب محاصرہ طویل ہوگیا اور دشمن مسلمانوں کے صبر سے تنگ آگئے تو جنگ کے قطعی فیصلہ کے ساتھ آگے بڑھے۔ ہاشم رضی اللہ عنہ نے اپنے فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: رضائے الٰہی کے لیے جنگ میں پوری شجاعت وجانبازی دکھاؤ تاکہ اللہ تم کو مال غنیمت اور اجر عظیم کا پورا پورا حصہ عطا کرے۔ اللہ کے لیے قدم بڑھاؤ، دشمن پر جھپٹ پڑو، اور جنگ کا بگل بجا دو۔ ادھر معرکہ شروع ہوا اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے سخت آندھی و طوفان بھیجا، پورا شہر ومیدان کارزار گردوغبار سے تاریک ہوگیا۔ دشمن کے پاس دفاع کے علاوہ اقدام کی کوئی طاقت نہ رہی۔ اس کے شہ سوار اپنی ہی تیار کیے ہوئی خندق میں گرنے لگے، ایسی حالت میں ان کے لیے ضروری ہو چکا تھا کہ اپنے گھوڑوں کو آگے بڑھانے کے لیے خندق کو پاٹ ڈالیں، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اپنی طرف کی خندق پاٹ دی اور اپنے ہاتھوں سے بچاؤ کا جو قلعہ تیار کیا تھا اسے خود ہی مسمار کر دیا۔[2] [1] التاریخ الإسلامی: ۱۱/ ۱۸۱، تاریخ الطبری: ۴/ ۴۶۸۔ [2] تاریخ الطبری: ۴/ ۴۶۸۔