کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 680
ہونے والی امانت دار فوج کی اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مدح سرائی کی ہے، مثلاً سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا خود کہنا ہے کہ اللہ کی قسم! لشکر کا ہر سپاہی امانت دار ہے، اگر بدری مجاہدین کی مخصوص فضیلت نہ ہوتی تو میری نگاہ میں ان کی فضیلت ان سے زیادہ ہوتی۔[1] اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ اللہ کی قسم ! جس کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں، ہم نے قادسیہ کے مجاہدین میں کسی کو آخرت پر دنیا کو ترجیح دیتے نہیں دیکھا، تین آدمیوں پر ہم نے دنیا داری کی تہمت لگائی تھی، لیکن اس موقع پر ان کی امانت داری اور زہد دیکھ کر ہمارے خیالات غلط ثابت ہوئے۔ وہ تین آدمی طلیحہ بن خویلد، عمرو بن معدیکرب اور قیس بن مکشوح رضی اللہ عنہما تھے۔ اور جب اموال غنیمت کا خمس امیرالمومنینرضی اللہ عنہم کے پاس پہنچا، جس میں کسریٰ کی تلوار، اس کا پٹکا اور زمرد کے پتھر تھے تو اسے دیکھ کر آپ نے مسلم افواج کی جو تعریف کی تھی وہ سب سے بڑھ کر ہے۔ آپ نے فرمایا تھا: جس قوم نے اس قسم کے قیمتی سامان کو اپنے امیر تک پہنچا دیا وہ یقینا امانت دار ہے۔ سیّدناعلی رضی اللہ عنہ امیرالمومنین کی اس شہادت کو سن کر کہنے لگے: آپ نے رعایا کے اموال میں پاک دامنی اختیار کی تو رعایا نے بھی پاک دامنی اختیار کی اگر آپ اسے چرنے والے ہوتے تو رعایا بھی چرتی۔[2] ش: غنیمت میں ملنے والے نوادرات سے متعلق عمر رضی اللہ عنہ کا موقف: فتح قادسیہ کے موقع پر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کسریٰ کی قبا، تلوار، اس کا پٹکا، کنگن، جامہ، تاج اور دونوں موزے بھیجے۔ یہ سب بہت ہی قیمتی چیزیں تھیں اور ریشم، سونے اور جواہرات سے تیار کی گئی تھیں۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں پر اپنی نگاہ ڈالی، ان میں سراقہ بن مالک بن جعثم رضی اللہ عنہ سب سے بھاری بھرکم اور توانا وتندرست نظر آئے۔ آپ نے کہا: اے سراقہ! اٹھو اور اس (کسروی) پوشاک کو جسم پر ڈالو، سراقہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے ان کپڑوں کا لالچ آگیا اور اٹھ کر پہن لیا۔ سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پیچھے مڑو، میں پیچھے مڑا، پھر آپ نے کہا: سامنے دکھاؤ، میں سامنے ہوا۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا خوب کیا خوب، مدلج کا ایک دیہاتی اور اس پر کسریٰ کی یہ قبا، جامہ، تلوار، اس کا پٹکا، تاج اور اس کے دونوں موزے۔ اسے سراقہ اگر ماضی میں کبھی کسریٰ اور آل کسریٰ کے یہ قیمتی پوشاک تم پر ہوتے تو تمہارے اور تمہاری قوم کے لیے باعث شرف ہوتے۔ نکال دو یہ مناسب نہیں، چنانچہ میں نے اتار دیے۔ پھر آپ نے دست دعا دراز کیے اور کہا: اے اللہ! اس متاع دنیا سے تو نے اپنے نبی اور رسول کو بچائے رکھا حالانکہ وہ تیرے نزدیک مجھ سے زیادہ محبوب ومعزز تھے، پھر ابوبکر کو بھی اس سے محفوظ رکھا جب کہ وہ تیرے نزدیک مجھ سے زیادہ محبوب ومعزز تھے، اور آج تو نے اسے میرے قدموں پر انڈیل دیا ہے۔ پس میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ کہیں تو نے مجھے آزمانے کے لیے اسے نہ دیا ہو۔ پھر آپ رونے لگے یہاں تک کہ جو لوگ وہاں تھے وہ آپ [1] تاریخ الطبری: ۴/ ۴۶۸۔ [2] تاریخ الطبری: ۴/ ۴۶۸۔ [3] تاریخ الطبری: ۴/ ۴۶۷۔