کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 677
۵: مسلمان دریا عبور کرتے ہیں: جب سعد رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ عاصم اپنے فوجی دستہ کے ساتھ دریا پار کر چکے ہیں اور ساحل پر قبضہ کر لیا ہے تو بقیہ مجاہدین کو بھی دریا عبور کرنے کی اجازت دے دی اور کہا: جب دریا میں اترنا تو یہ پڑھتے رہنا: ((نَسْتَعِیْنُ بِاللّٰہِ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْہِ، حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوِکِیْلُ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ۔)) ’’ہم اللہ سے مدد کے طالب ہیں، اسی پر ہمیں کامل اعتماد ہے، اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہتر کارساز ہے۔ اللہ عظیم کے علاوہ کوئی قوت اور طاقت نفع ونقصان پہنچانے والی نہیں ہے۔‘‘ اجازت ملنے کے بعد بیشتر لشکر دریا کے تھپیڑوں پر سوار ہو کر جھاگ کو چیرتے اور باتیں کرتے ہوئے ایسے چل رہے تھے جیسے زمین پر چل رہے ہوں۔[1] دریامیں سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ ساتھ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی چل رہے تھے۔ اچانک ان کے گھوڑے انہیں لے کر تیرنے لگے، تو سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے: حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوِکِیْلُ۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی ضرور مدد کرے گا، اپنے دین کو غلبہ دے گا اور اگر اسلامی لشکر میں نیکیوں سے بڑھ کر ظلم اور گناہ نہیں ہے تو وہ ضرور اپنے دشمن کو شکست دے گا۔[2] یہ سن کر سلمان رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: اسلام ابھی نیا ہے۔ اللہ نے اسلام کے پیروکاروں کے لیے جس طرح روئے زمین کو مسخر کر دیا ہے، اسی طرح دریا بھی ان کے لیے مسخر کیے جائیں گے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں سلمان کی جان ہے جس طرح لوگ اس دین میں فوج در فوج داخل ہوئے ہیں ایسے ہی فوج در فوج اس دین سے نکل جائیں گے۔[3] سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ اسلام ابھی نیا ہے، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام ابھی زندہ ہے اور مسلمانوں کا ایمان قوی ہے، اسلام اور مسلمان اس دنیا میں قیامت تک رہیں گے، سچے اور کامل مومنوں کو اس سے عزت ملے گی، کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی کا یہی خلاصہ سمجھا ہے، وہ اسی کے لیے جیتے اور مرتے ہیں، اسی کی دعوت دیتے ہیں اور اسی کی طرف سے دفاع کرتے ہیں اور جب ایام طویل ہو جائیں گے، اس پر ایک لمبا عرصہ گزر جائے گا تو ایسی نسلیں جنم لیں گی جنہیں یہ دین وراثت میں ملے گا، وہ ان کا منتخب کیا ہوا مذہب نہ ہو گا اور اسی لیے ان کی تمام جدوجہد، کاوشوں اور عیش پرستی کا ماحصل اس دین کی سربلندی نہ ہوگی، بلکہ حصول دنیا اور عیش پرستی ہی ان کی زندگی کا خلاصہ ہوگی، ان کی زندگی میں دین کی ثانوی حیثیت ہوگی، اس وقت اس دین سے لوگ فوج در فوج نکل جائیں گے، جیسے کہ ابتدائے اسلام میں فوج در فوج اس میں داخل ہوئے تھے۔[4] [1] التاریخ الاسلامی: ۱۱/۱۶۸۔ [2] تاریخ الطبری: ۴/ ۴۵۶، ۴۵۷۔