کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 671
اور کچھ بذریعہ مصالحت اسلامی سلطنت کے زیر نگیں ہوئے۔[1] نہایت حکمت عملی اور منصوبہ بندی سے مسلمانوں کے حملے جاری رہے، یہاں تک کہ ان کے فاتحانہ قدم مدائن تک پہنچ گئے۔ چونکہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کو ہدایت دی تھی کہ وہاں کے کاشتکاروں سے حسن سلوک کرنا اور ان کے عہد و پیمان کی رعایت کرنا، اس لیے اس کا بہت خوش آئند نتیجہ سامنے آیا۔ لاتعداد کاشتکاروں نے مسلمانوں کی اطاعت قبول کر لی اور ذمی بن کر رہنا گوارا کر لیا۔ وہ اسلامی فوج کے حسن سلوک اور عدل و مساوات سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ کائنات کے معبود حقیقی کے سامنے ان کا امیر بھی ایک ادنیٰ غلام کی طرح ہے، کوئی ظلم اور فساد نہیں۔ ایک زمانے سے ان کی گردنوں میں غلامی کا طوق اور سروں پر تکبر وغرور کا جو بوجھ تھا اب اس سے ان کی گردنیں اور سر آزاد ہو چکے تھے، اب وہ سبھی اللہ واحد کے پرستار نظر آنے لگے۔ دربار خلافت کی ہدایت کے مطابق سعد رضی اللہ عنہ مدائن کی طرف متوجہ ہوئے۔ زہرہ بن حویہ کی قیادت میں مقدمۃ الجیش روانہ کیا اور ان کے پیچھے ہی دوسرا فوجی دستہ عبداللہ بن معتم، تیسرا دستہ شرحبیل بن سمط اور چوتھا اپنے بھتیجے ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی قیادت میں بھیجا۔ البتہ اس مقام پر اپنی نیابت کے لیے خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کے بجائے ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو منتخب کیا۔ مذکورہ دستوں کے پیچھے ہی باقی ماندہ فوج لے کر خود سعد رضی اللہ عنہ بھی ان سے جا ملے اور فوج کے پچھلے حصے کی قیادت خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو سونپ دی۔[2] زہرہ، جو مقدمۃ الجیش کی قیادت کر رہے تھے، مدائن کی طرف آگے بڑھے، مدائن ہی فارسی حکومت کا دارالسلطنت تھا۔ جغرافیائی اعتبار سے دریائے دجلہ کے مشرق و مغرب دونوں سمتوں میں اس کی سرحدیں پھیلتی تھیں۔ دریائے دجلہ کا مغربی علاقہ ’’بہر سیر‘‘ کے نام سے اور مشرقی علاقہ ’’اسبانیر‘‘ اور ’’طیسفون‘‘ کے نام سے معروف تھا۔ زہرہ نے ’’بہر سیر‘‘ میں اپنی فوج اتاری اور شہر کا محاصرہ شروع کیا۔ پیچھے ہی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنی فوج اور اس کے قائد ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدائن کے مغربی علاقہ ’’بہرسیر‘‘ میں پہنچ گئے، یہیں پر ایرانی بادشاہ یزدگرد رہتا تھا۔ مسلمانوں نے مسلسل دو مہینے اس ایرانی پایۂ تخت کا محاصرہ کیا۔ فارسی فوج کبھی کبھار مقابلہ کے لیے باہر نکلتی لیکن مقابلہ کی تاب نہ لا کر واپس بھاگ جاتی۔ اسی دوران زہرہ بن حویہ کو دشمن کو ایک تیر آکر لگ گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ زہرہ نے جو زرہ پہن رکھی تھی وہ بعض جگہوں سے ٹوٹی ہوئی تھی۔ جب تیر ان کے جسم میں اتر گیا تو ان سے بعض لوگوں نے کہا کہ اگر آپ اس ٹوٹی ہوئی زرہ کو درست کروا لیں تو بہتر ہو گا۔ آپ نے پوچھا: کیوں؟ لوگوں نے کہا: ہمیں خوف ہے کہ کہیں کوئی تیر آپ کو زخمی نہ کر دے۔ آپ نے جواب دیا: اللہ کے نزدیک میرے لیے یہ چیز قابل اعزاز ہوگی کہ ایک نہیں فارسی فوج کے تمام تیر اس ٹوٹی ہوئی زرہ کے راستے میرے جسم میں پیوست ہو جائیں۔ چنانچہ ان کی خواہش کے مطابق ایسے ہی ہوا اور وہ اللہ کے نزدیک [1] الادب الإسلامی، ص:۲۱۴۔