کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 662
بن کر زندگی گزاری۔[1] ۴: معرکہ قادسیہ میں ملنے والے خمس کو سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے مجاہدین میں لوٹا دیا اور نمایاں کارنامے انجام دینے والوں کو بہترین بدلے سے نوازا: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے فتح قادسیہ کے بعد حکم دیا کہ مال غنیمت کا خمس بھی مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے۔ چنانچہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے حکم فاروقی کو نافذ کیا۔ درحقیقت اس مقام پر آپ کا یہ اجتہاد بالکل اسی طرح عظیم مصلحتوں پر مشتمل تھا جس طرح عراق کی قابل زراعت زمینوں کو کاشت کاروں کے ہاتھ میں چھوڑ دینے کے لیے آپ نے اجتہاد کیا تھا۔ اسلامی سلطنت کی عظیم مصلحتوں کے پیش نظر آپ نے مناسب سمجھا کہ مال غنیمت کا خمس بھی مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے تاکہ ان کی ہمت افزائی ہو، وہ کشادگی کی زندگی پائیں اور ان کے قابل تحسین کارناموں کا انہیں بہترین صلہ ملے۔[2] آپ نے سعد رضی اللہ عنہ کے پاس چار تلواریں اور چار گھوڑے بھیجے تاکہ جنگ عراق میں کارہائے نمایاں انجام دینے والوں کو بطور اعزاز یہ تلواریں اور گھوڑے دیے جائیں۔ چنانچہ بنو اسد کے تین مرد میداں یعنی حمال بن مالک، ربیل بن عمرو بن ربیعہ اور طلیحہ بن خویلد کو تین تلواریں اور چوتھی تلوار چوتھے سرفروش یعنی عاصم بن عمرو تمیمی رضی اللہ عنہ کو اعزاز میں عطا کی گئی اور گھوڑوں میں سے ایک گھوڑا قعقاع بن عمرو تمیمی رضی اللہ عنہ کو اور تین گھوڑے ان یربوعی حضرات کو دیے گئے جنہوں نے معرکہ اغواث کی شام بہادری کے بے مثال جوہر دکھائے تھے۔[3] یہ ہیں مجاہدین اسلام کے عزم وحوصلے کو بلند کرنے اور ان کے مجاہدانہ کارناموں میں نکھار لانے کے فاروقی وسائل جن سے عظیم وشریف ترین مقاصد کا حصول مطلوب تھا۔ ۵: سیّدناعمر رضی اللہ عنہ زہرہ بن حویہ کا اعتماد بحال کرواتے ہیں: زہرہ نے جب فارس کی شکست خوردہ فوج کا پیچھا کیا اور ان کے جرنیل جالینوس کو قتل کر کے واپس لوٹے تو جالینوس کے ہتھیار اور اس کے قیمتی لباس چھین لائے، اس وقت کچھ فارسی قیدی سعد رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے انہوں نے زہرہ کو دیکھتے ہی کہا کہ ان کے پاس یہ جو ہتھیار اور پوشاک ہے جالینوس کا ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے زہرہ سے پوچھا: اور کسی نے تمہاری مدد کی تھی؟ زہرہ نے کہا: ہاں۔ سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا کون؟ زہرہ نے کہا: اللہ نے۔ زہرہ اس وقت بالکل نوجوان تھے ان کے بال لمبے لمبے تھے، زمانہ جاہلیت میں وہ سردار رہ چکے تھے اور اسلام لانے کے بعد نہایت شان دار مجاہدانہ کارنامے انجام دیے۔ سعد رضی اللہ عنہ زہرہ کی اس جلد بازی پر غصہ ہوگئے کہ میری اجازت کے بغیر جالینوس سے چھینے ہوئے پوشاک کیوں پہن لی اور سختی سے ڈانٹتے ہوئے کپڑا ان سے نکلوا لیا، [1] تاریخ الطبری: ۴؍۴۱۰۔