کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 660
دیتے رہے اور اب بھی دینے کو تیار ہیں۔ سب نے باتفاق رائے یہ مشورہ دیا کہ جو ذمی لوگ اپنے عہد پر قائم رہے اور مسلمانوں کے خلاف آمادہ جنگ نہ ہوئے اور خیر ہی میں آگے بڑھے، ان کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دیا جائے اور جو یہ کہتا ہو کہ فارسی فوج نے عہد توڑنے پر مجھے مجبور کیا تھا، پھر اس کی صداقت کے ثبوت فراہم ہو جائیں تو انہیں بھی ذمیوں کے حکم میں شمار کیا جائے اور اگر ان کے دعویٰ کی تصدیق نہ ہو سکے تو ان کا پہلا معاہدہ باطل سمجھا جائے اور وہ دوبارہ صلح کریں اور جو لوگ عراق چھوڑ کر دشمن سے جا ملے تھے اگر وہ دوبارہ لوٹنا چاہتے ہیں تو ان میں جسے مناسب سمجھیں تحقیق و تفتیش کے بعد ذمیوں کی فہرست میں شمار کر لیں اور اگر مناسب سمجھیں تو دوبارہ انہیں ان کی زمینیں نہ دیں اور عراق سے نکال دیں۔ رہے وہ لوگ جو اپنے عہد پر قائم رہے، راضی برضا جزیہ دیتے رہے اور آمادۂ جنگ نہ ہوئے ان کے بارے میں اختیار ہے اور ان کے بارے میں بھی اختیار ہے جو اپنے عہد پر قائم رہے اور جزیہ دیا یا عراق سے نکل بھاگے تھے، ایسے ہی ذمی کسانوں کے بارے میں تمہیں اختیار ہے جو مناسب سمجھو فیصلہ کر لو۔‘‘[1] خطبہ فاروقی میں عبرت وموعظت کی باتیں: * سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے شورائیت کے زریں اصول کو عملی جامہ پہنایا۔ آپ کے علم کی گہرائی اور رائے کی درستی مسلم ہے، پھر بھی آپ اپنے تمام اہم معاملات میں اصحاب فضل و تقویٰ اور اہل الرائے سے مشورہ لیتے تھے اور یہی بلند کردار امت مسلمہ کی سیاست میں بڑی کامیابی کا ایک اہم سبب تھا۔ * آپ نے جب اپنے مشیروں سے مشورہ لیا تو نہایت بلیغ و موثر تمہید سے اپنی بات کا آغاز کیا، اس سے ہمیں سبق لینا چاہیے۔ چنانچہ آپ نے صحابہ کرام کو طہارت نفس، خلوص و للہیت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے سیدھے راستے اور استقامت کی تلقین کی اور بتایا کہ جس نے ان چیزوں کو اپنا نصب العین بنایا وہ کبھی فیصلہ کرنے میں بھٹک نہیں سکتا، وہ صحیح و برحق نتیجہ پر پہنچے گا اور اللہ کی طرف سے ثواب عظیم سے نوازا جائے گا۔[2] سیّدناعمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام کے اسی مشورہ کو اختصار کے ساتھ خط کی شکل میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، اس میں لکھا تھا: ’’حمد وصلاۃ کے بعد… اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کو چھوڑ کر بقیہ ہر معاملہ میں بعض اوقات وحالات میں رخصت عطا کی ہے۔ ان میں پہلی چیز ہے عدل و انصاف اور دوسری چیز ہے: ذکر الٰہی۔ ذکر الٰہی سے کسی حالت میں غافل ہونا جائز نہیں ہے۔ ذکر الٰہی کی کثرت ہی اللہ کی رضا مندی کا سبب ہے۔ اور پہلی چیز یعنی عدل گستری میں بھی کسی طرح کی رخصت نہیں ہے۔ کسی قریبی کا معاملہ ہو یا اجنبی کا، [1] تاریخ الطبری: ۴/ ۴۰۹۔