کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 656
تعداد و تیاری کی اس سخت کمی کے باوجود مسلمانوں نے اپنے آٹھ ہزار پانچ سو (۸۵۰۰) شہداء کو گنوانے کے بعد دشمن پر فتح کا پرچم لہرایا۔[1]معرکہ قادسیہ کے شہداء کی یہ تعداد اسلامی فتوحات کے پہلے دور کے شہداء میں سب سے بڑی تعداد تھی، اس معرکہ میں اتنی جانوں کے نذرانے دینا اس بات کی دلیل ہے کہ معرکہ بہت سخت جاں تھا اور مسلمان عزم وشجاعت کے پیکر بن کر شہادت کے لیے تیار تھے۔[2] ج: شکست خوردہ فوج کے باقی ماندہ افراد کو دوڑانا: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے شکست خوردہ فوج کے باقی افراد کو دھر دبوچنے کا حکم دیا۔ قعقاع بن عمرو اور شرحبیل بن سمط کی ذمہ داری لگائی کہ دریائے عتیق کے اس پار جو بچے کھچے دشمن فوجی ہوں انہیں دائیں بائیں دور تک دوڑائیں اور زہرہ بن حویہ کو مکلف کیا کہ جو لوگ اپنے سرداروں کے ساتھ دریا پار کر چکے ہیں ان کا پیچھا کریں۔ ادھر فارسی فوج نے یہ ہوشیاری کی تھی کہ دریا میں جو بڑا بند بنایا تھا، دریا عبور کرنے کے بعد اسے کاٹ دیا تھا تاکہ مسلمان ان کا پیچھا نہ کر سکیں، لیکن زہرہ اور ان کے ساتھ تین سو شہ سواروں نے دریا میں اپنے گھوڑے دوڑا دیے اور حکم دیا کہ جو لوگ ادھر سے دریا نہ عبور کر سکیں وہ پل کے راستے سے ہمارے پیچھے آئیں۔ وہ پل بھی کچھ ہی دوری پر واقع تھا، تھوڑی ہی دیر میں سب نے دشمن کو پکڑ لیا۔ جالینوس ان کا قائد اعلیٰ تھا جو ساقہ میں چل رہا تھا اور ان کی حفاظت کر رہا تھا۔ زہرہ نے اسے پکڑ لیا پھر جالینوس اور زہرہ نے تلوار کے ساتھ دو دو ہاتھ کیے، بالآخر وہ مارا گیا اور زہرہ نے اس کا سامان چھین لیا، فارسی فوج کے کچھ لوگ بھاگ نکلے اور کچھ قتل کیے گئے۔[3] س: فتح کی بشارتیں عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچتی ہیں: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے سعد بن عُمیلہ فزاری کے ذریعہ سے امیرالمومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نام فتح کی خوش خبری کا خط بھیجا۔ خط کا موضوع یہ تھا: ’’حمد وصلاۃ کے بعد! اللہ تعالیٰ نے فارسی فوج پر ہمیں فتح عطا کی ہے۔ ان سے پہلے ان کے ہم مذہبوں کا جو حشر ہو چکا تھا ایک طویل اور دلدوز جنگ کے بعد وہی حشر ان کا بھی کیا ہے۔ انہوں نے ایسی جنگی تیاری کے ساتھ مسلمانوں کا مقابلہ کیا کہ اس سے پہلے مسلمانوں نے کبھی دیکھا بھی نہ تھا۔ لیکن اس نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا، بلکہ اللہ نے اسے ان سے چھین کر مسلمانوں کو دے دیا، نہروں، ٹیلوں، گلیوں اور پہاڑوں کے دامن تک مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا، مسلمانوں میں سے سعید بن عبید القاری، فلاں اور فلاں بہت سارے لوگ جن کا نام مجھے معلوم نہیں، اللہ ہی ان کے بارے میں اچھی طرح جانتا ہے، شہید ہوئے ہیں۔ رات کی تاریکی جب اپنا دامن دراز کرتی تھی تو وہ لوگ شہد [1] تاریخ الطبری: ۴/ ۳۸۸۔ [2] تاریخ الطبری: ۴/ ۳۸۸۔