کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 653
ٹھیک ہے، تم جہاں ہو وہیں رہو میں تم کو دکھاتا ہوں، دیکھو، اور پھر ایک فارسی فوجی پر حملہ کر دیا، پلٹ کر اس کے پیچھے گئے اور اس کی پیٹھ پر نیزہ گھونپ دیا، پھر اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: مجھے یقین ہے کہ یہ سب تمہارے ہاتھ سے موت کے گھاٹ اتر جائیں گے۔ پھر سب نے مل کر ایک ساتھ حملہ کیا اور انہیں ان کی صف تک دھکیل لے گئے۔[1] قبیلہ کندہ کے بالمقابل ترک طبری نامی فارس کا ایک فوجی افسر اپنی جماعت کے ساتھ کھڑا تھا، اشعث بن قیس کندی نے اپنی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اے میری قوم کے لوگو! انہیں پیچھے دھکیل دو، انہوں نے سات سو (۷۰۰) آدمیوں کو لے کر فارسی فوج پر حملہ کر دیا، فوج پیچھے ہٹ گئی اور افسر قتل کر دیا گیا۔ ’’لیلۃ الہریر‘‘ کی جنگ خون ریز تھی، پوری رات جنگ جاری رہی، تمام قبائل کے سردار اپنے شہ سواروں کو صبر و ثابت قدمی کی تلقین کرتے تھے، اس رات کی دل دوز جنگ کی سختی کو انس بن حلیس اس طرح بیان کرتے ہیں: میں ’’لیلۃ الہریر‘‘ میں حاضر ہوا، پوری رات لوہار کے لوہا پیٹنے کی آواز کی طرح صبح تک تلواروں کی جھنکار سنائی دیتی رہی، وہ لوگ بے انتہا صبر و آزمائش کے مرحلے سے گزر رہے تھے، سعد رضی اللہ عنہ نے پوری رات ایسی شب بیداری کی کہ کبھی ایسی رات نہ گزاری تھی، عرب وعجم نے جنگ کا ایک بھیانک منظر اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ رستم اور سعد دونوں کو کچھ نہ معلوم ہوتا تھا کہ فوجیں کس حال میں ہیں۔ سعد، اللہ کی بارگاہ میں دست دعا دراز کیے ہوئے تھے، جب آدھی رات گزر گئی تو قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہما کو یہ شعر پڑھتے سنا: نحن قتلنا معشرًا وزائدًا أربعۃ وخمسۃ وواحدًا ’’ہم نے گروہ کے گروہ بلکہ اس سے بھی زیادہ تلوار کے گھاٹ اتار دیے، چار چار، پانچ پانچ اور ایک ایک بھی۔‘‘ نحسب فوق اللبد الأساودا حتی إذا ماتوا دعوت جاہدا ’’ہم کثیر سے کثیر جمعیت پر بھاری سمجھے جاتے ہیں، چنانچہ میرے حریف جب تک موت کی نیند نہ سو گئے میں برابر انہیں تیغ آزمائی کے لیے للکارتا رہا۔‘‘ اللہ ربی واحترست عامدا[2] ’’اس عقیدہ کے ساتھ کہ اللہ میرا رب ہے اور بالقصد میں بچا۔‘‘ سعد رضی اللہ عنہ نے ان اشعار سے اسلامی فوج کی فتح مندی کی فال نکالی اور پھر بقیہ رات میں اللہ تعالیٰ سے فتح و نصرت [1] الہریر کے معنی کتے کی آواز جو تکلیف یا سردی کی وجہ سے نکلتی ہے۔ [2] التاریخ الإسلامی: ۱۰/ ۴۷۲۔ [3] تاریخ الطبری: ۴/ ۳۸۴۔