کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 650
کا پاؤں پکڑ لیا، فارسی اپنے گھوڑے کو آگے بڑھانا چاہتا تھا لیکن گھوڑا اپنی جگہ سے جنبش نہ کر سکا، فارسی نے عمرو کی طرف دیکھا اور ان کو قتل کر دینا چاہا، تب تک عمرو کے ساتھیوں نے اسے دیکھ لیا اور اس پر پل پڑے، فارسی اپنے گھوڑے سے اتر کر اپنے ساتھیوں کے پاس بھاگنے کی کوشش کرنے لگا، عمرو نے کہا: اس کے گھوڑے کی لگام میرے ہاتھ میں دے دو، انہوں نے لگام عمرو کے ہاتھ میں دے دی اور وہ کود کر اس پر سوار ہوگئے۔[1] ب: طلیحہ بن خویلد اسدی: معرکے کے تیسرے دن، جنگ دیر گئے رات تک جاری تھی کہ طلیحہ بن خویلد اسدی کی آواز نے دشمن کی فوج میں اچانک سناٹا پیدا کر دیا، وہ فارسی فوج کے پیچھے پہنچ چکے تھے۔ فارسی فوج یہ صورت حال دیکھ کر گھبرا گئی اور مسلمان تعجب میں پڑ گئے، صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے دونوں افواج نے کچھ دیر کے لیے جنگ بند کر دی۔ دراصل طلیحہ بن خویلد اسدی کو چند لوگوں کے ساتھ وہاں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بھیجا تھا کہ اس جگہ پر قبضہ جما لیں، کیونکہ ادھر سے دشمن مسلمانوں پر حملہ کر سکتا تھا، لیکن طلیحہ کو سعد رضی اللہ عنہ کی جس قدر رہنمائی ہوئی تھی انہوں نے اسی پر بس نہ کی، بلکہ دو قدم آگے بڑھ کر فارسی فوج کے پیچھے پہنچ گئے اور بلند آواز سے تین مرتبہ اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا۔[2] طلیحہ کی اس کارروائی کا یہ فائدہ ہوا کہ جنگ تھوڑی دیر کے لیے بند ہوگئی اور جدید صف بندی ونئی تیاری کا موقع مل گیا۔ ج: قیس بن مکشوح: قیس بن مکشوح نے مجاہدین اسلام کی معنوی قوت بیدار کرنے کے لیے کہا: عرب کے لوگو! اللہ نے دین اسلام کے ذریعہ تم پر بہت بڑا احسان کیا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے تمہیں عزت بخشی، اللہ کی نعمت سے تم آپس میں بھائی بھائی ہوگئے، تمہاری دعوت ایک ہے، تمہارا معاملہ ایک ہے، جب کہ اس سے پہلے تم میں سے ہر ایک دوسرے پر شیر کی طرح حملہ کرتا تھا اور بھیڑیے کی طرح اچک لینے کی کوشش میں رہتا تھا، تم اللہ کی مدد کرو، اللہ تمہاری مدد کرے گا۔ اللہ سے فتح فارس کی دعائیں کرو۔ اللہ نے تمہارے شامی بھائیوں کے لیے فتح شام اور سرخ قلعوں وقصروں کے چھین لینے کا وعدہ پورا کر دیا۔[3] د: یوم اعماس کے موقع پر کہے جانے والے بعض اشعار: قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے: حضض قومی مضرحی بن یعمر فللّٰہ قومی حین ہزوا العوالیا [1] التاریخ الإسلامی: ۱۰/ ۴۶۸۔ [2] تاریخ الطبری: ۴/ ۳۷۶۔