کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 648
میدان جنگ میں پہنچ گیا تو ہاشم رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ ستر مجاں نثاروں کا دستہ لے کر خود میدان جنگ کی طرف بڑھے۔[1] اس مقام پر ذرا تھوڑی دیر رک کر ہم ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی تواضع وخاکساری پر غور کریں کہ کس طرح اپنے ماتحت ذمہ دار یعنی قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کی بہترین جنگی تدبیر کو بلا چون وچرا قبول کر لیا اور اپنی فوج کو بھی متعدد دستوں میں تقسیم کر دیا۔ خودداری اور منصب کی عظمت نے آپ کو اس بات سے نہ روکا کہ اپنے کسی ماتحت ذمہ دار کی رائے قبول نہ کریں، بلکہ آپ ان برگزیدہ ہستیوں میں سے ایک تھے جو مدرسہ نبوت کے فارغ تھے اور اپنی ذات اور ذاتی مفاد کو اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت و مفاد عامہ کے لیے قربان کر دینے والے تھے۔ درحقیقت یہ بلند اوصاف و کردار اسلام کی ایک عظیم الشان سلطنت قائم کرنے اور عظیم ترین کافر حکومتوں کو شکست دینے کے اہم اسباب میں سے ایک سبب ہے۔ ۳: یوم عماس: جنگ کے تیسرے دن کو ’’یوم عماس‘‘ کہا جاتا ہے، فارسی فوج نے اس دن ہاتھیوں کو جدید طریقے سے منظم کیا، آج کے دن وہ یوم ارماث کے اس دھوکے کی تلافی کرنا چاہتے تھے جس میں ان کے ہاتھیوں کے تنگ کاٹ دیے گئے تھے، آج انہوں نے ہاتھیوں کو درمیان میں کر کے انہیں گھڑ سواروں کی حفاظت میں رکھا تھا اور مسلمان پامردی سے ہاتھیوں، ان کے فیل بانوں اور اردگرد کے شہ سواروں سے لڑ رہے تھے لیکن سخت مشکلات کا سامنا تھا، جب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ہاتھیوں کی وجہ سے مسلمانوں کی مشکل دیکھی تو فارس کے مسلمانوں سے جو اسلامی فوج کے دوش بدوش لڑ رہے تھے، پوچھا کہ کیا ان ہاتھیوں سے نمٹنے کا کوئی حل تمہیں معلوم ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، ان کی سونڈ اور آنکھوں کو بے کار کر دیا جائے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے قعقاع اور عاصم بن عمرو رضی اللہ عنہ کو بلوایا چونکہ یہ ہاتھی کے بالمقابل تھے اس لیے ان سے کہا: سفید ہاتھی کی ذمہ داری تمہارے اوپر ہے۔ بقیہ ہاتھی اس کے پیچھے تھے، اور حمال بن مالک اور ربیل بن عمرو اسدی کو بلا کر ان سے کہا کہ: چتکبرا ہاتھی تمہارے ذمہ ہے، کیونکہ وہ تمہارے سامنے ہے۔ چنانچہ قعقاع اور عاصم رضی اللہ عنہما نے اپنا اپنا نیزہ سنبھالا اور پیدل و سوار افواج کا دستہ لے کر ہاتھی کی طرف بڑھے اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہاتھی کو تم لوگ چاروں طرف سے گھیرے میں کر لو، جب ہاتھی گھیرے میں آگیا تو اپنے دائیں بائیں، نامانوس انسانوں کی بھیڑ دیکھ کر وہ چونکا، ادھر قعقاع وعاصم رضی اللہ عنہما نے قریب پہنچ کر ایک ساتھ ہاتھی کی آنکھوں میں نیزہ گھونپ دیا، وہ اپنے سر کو تیزی سے ہلاتے ہوئے بھاگا، اپنے فیل بان کو پیٹھ سے پھینک دیا، سونڈ کٹ کر مستک سے لٹک گی۔ قعقاع رضی اللہ عنہ نے اس کو تلوار سے جدا کر کے پھینک دیا، ہاتھی پہلو کے بل گر گیا پھر آپ نے اس پر سوار فارسی سپاہیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اسی طرح حمال بن مالک بھی حملہ آور ہوئے اور ربیل بن عمرو سے کہا: تم اس کے سونڈ پر تلوار مارو اور میں [1] تاریخ الطبری: ۴/ ۳۷۴۔