کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 635
’’قبیلہ دیکھتا ہے کہ ہمارے درمیان حملہ آور عمدہ گھوڑے موجود ہیں جو دشمن کو اپنے شہ سواروں کے قریب نہیں آنے دیتے۔‘‘ بجمع مثل سلک مکفہر تشبہہم إذا اجتمعوا قروما ’’ایسے ہجوم کے ساتھ جو حملہ کرنے کے لیے پر تول رہا ہے، جب وہ اکٹھے ہوتے ہیں تو لگتا ہے کہ گوشت کا ٹیلہ ہے۔‘‘ بمثلم تلاقی یوم ہیج إذا لاقیت باسا أو خصوما ’’جب میں کسی جنگ کا سامنا کرتا ہوں یا دشمن سے دو دو ہاتھ کرتا ہوں تو ان جیسے شہ سواروں کو لے کر وہ (گھوڑے) لڑائی کے دن میدان کار زار میں کود پڑتے ہیں۔‘‘ نفینا فارسا عما أرادت وکانت لا تحاول أن تریما ’’ہم نے فارس کو ان کے ارادوں سے پھیر دیا جب کہ وہ اپنی جگہ سے پیچھے ہٹنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔‘‘ ھ: جنگ کا ہسپتال: دوران جنگ مقام ’’عذیب‘‘ میں چھوٹا ہسپتال بنایا گیا تھا، مجاہدین کی صبر گزار اور نیکیوں کی طلب گار بیویاں وہاں پر مقیم تھیں وہ زخمیوں کی مرہم پٹی اور علاج و مرہم پٹی کرتیں، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان میں جسے چاہتا شفا دیتا اور جسے چاہتا شہادت کی موت عطا فرماتا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس سے زیادہ قابل تعجب اور قابل آفریں ان کا یہ عمل رہا کہ اپنے ساتھ بچوں کو لے کر وہ شہداء کی قبریں کھودتیں۔ مانا کہ زخمیوں کی تیمارداری اور ان کی مرہم پٹی کرنا خواتین کے لیے آسان اور ان کے بس کی بات ہے، لیکن قبریں کھودنا تو دشوار اور محنت طلب کاموں میں سے ہے اور یہ مردوں کا کام ہے، لیکن چونکہ مجاہدین حضرات جہاد میں مشغول تھے اس لیے ان کی عدم موجودگی میں خواتین پر واجبی ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ اس عمل کو نبھائیں، کیونکہ ایمان اور صبر کی قوت نے انہیں اس لائق بنا دیا تھا۔[1] بہرحال جنگ جاری رہی اور شہداء کی لاشیں ’’عذیب‘‘ اور ’’عین شمس‘‘ کے درمیان وادی مشرف کے دونوں کنارے پہنچائی جاتی رہیں۔[2]نیز مسلم فوج اور ان کے دشمنوں کے درمیان کچھ رات گئے جنگ بند ہو جانے سے [1] تاریخ الطبری: ۴/۳۶۴۔ [2] التاریخ الإسلامی ۱۰/۴۴۹۔ [3] تاریخ الطبری: ۴/ ۳۶۴، القادسیۃ، أحمد عادل کمال ص: ۱۳۹۔