کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 633
اسے قتل کر دیا۔ ادھر فارسی فوج نے جب دیکھا کہ بنو اسد کی طرف سے ہاتھیوں کو بھاری نقصان کا سامنا ہے تو پوری توانائی کے ساتھ اسلامی لشکر پر عام حملہ کر دیا اور فوج کے بہادر کہے جانے والے دو سپہ سالار ، ذوالحاجب اور جالینوس مسلمانوں کی جمعیت توڑنے کے لیے آگے بڑھے۔ جب کہ اسلامی فوج ابھی تک اپنے امیر سعد رضی اللہ عنہ کی چوتھی تکبیر کی منتظر تھی۔ اب فارسی فوج کے شہ سوار اور فیل بان فوجی اپنے ہاتھیوں کے ساتھ بنو اسد پر اکٹھا حملہ کر چکے ہیں اور وہ لوگ دشمن کا جم کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ اتنے میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی چوتھی تکبیر کا نعرہ بلند ہوتا ہے اور اسلامی فوج بنو اسد کے دفاع میں دشمن کی حملہ آور فوج پر ٹوٹ پڑتی ہے گویا بنو اسد ہی پر جنگ کی چکی چل رہی ہے۔ فیل بانوں نے میمنہ اور میسرہ سے اسلامی فوج کے شہ سواروں پر حملہ کر دیا اور گھوڑے ان دیوپیکر ہاتھیوں کو دیکھ کر بدک گئے اور پیچھے ہٹنے لگے، جب کہ شہ سوار فوجی، پیدل فوج سے کہتے تھے کہ ہمارے گھوڑوں کو آگے ہانکو تاکہ ہاتھیوں کا جواب دیا جائے۔ ب: امیر لشکر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کاہاتھیوں سے چھٹکارا کے لیے بنو تمیم سے استفسار: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے عاصم بن عمرو تمیمی سے کہلا بھیجا کہ: اے بنی تیمیم! کیا تم اونٹوں اور گھوڑوں والے مشہور نہیں ہو؟ کیا ان ہاتھیوں سے چھٹکارا پانے کا تمہارے پاس کوئی حل نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! کیوں نہیں، پھر انہوں نے اپنی قوم کے ماہر تیر اندازوں اور چست وچالاک لوگوں کو آواز دی اور ان سے کہا: فیل بانوں کو تیر مار مار کر گرا دو اور جو لوگ چست وچالاک تھے ان سے کہا: تم ہاتھیوں کے پیچھے لگ جاؤ اور ان کے ہودجوں سے بندھے ہوئے رسوں کو کاٹ دو تاکہ ہودج نشین جنگ جو گر جائیں۔ پھر خود بھی ان کی مدد میں شریک ہوگئے۔ یاد رہے ابھی تک بنو اسد ہی جنگ کی چکی میں تنہا پس رہے تھے، پھر میمنہ ومیسرہ نے نہایت تیزی سے پلٹ کر دشمن پر وار کیا اور عاصم کے جانباز ساتھیوں نے آگے بڑھ کر ہاتھیوں کی دُمیں اور ہودج و پالان سے بندھی ہوئی رسیاں کاٹ ڈالیں۔ ہاتھی چنگھاڑ مار کر بھاگنے لگے اور اپنے فیل بانوں کو پھینکنے لگے، پھر وہ سب قتل کر دیے گئے۔ اس طرح اسلامی فوج کو کچھ راحت اور بنو اسد کو بلائے بے درماں سے نجات ملی اور فارسی فوج پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئی۔ سورج غروب ہونے تک یہ معرکہ گرم رہا، بلکہ رات کے کچھ ابتدائی حصوں میں بھی جنگ جاری رہی۔ پھر دونوں فوج اپنی اپنی جگہ واپس لوٹ گئیں۔ اس معرکہ میں بنو اسد کے پانچ سو مجاہدین شہید ہوئے، یہ لوگ مسلم فوج کے پشت پناہ تھے اور عاصم و بنی تمیم اپنے اپنے قبائل کے ساتھ دشمن کو دھکیلنے اور بنو اسد کے تعاون میں پیش پیش رہے، معرکہ کے اس پہلے دن کو ’’یوم ارماث‘‘ کہا جاتا ہے۔[1] ج: طلیحہ بن خویلد کا بہادرانہ موقف: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا یہ حکم سننا تھا کہ بنو اسد میں ایک حیرت انگیز انقلابی تاثیر پیدا ہوگئی۔ طلیحہ بن خویلد [1] التاریخ الاسلامی: ۱۰/۴۴۵۔ [2] تاریخ الطبری: ۴/۳۶۳۔