کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 629
مسواک کرتے ہیں، پھر نماز پڑھتے ہیں اور اپنی اپنی جگہوں پر واپس لوٹ جاتے ہیں۔ جاسوس لوٹ کر اپنی فوج میں گیا اور رستم کو مسلمانوں کی نقل وحرکت اور دیگر امور کے بارے میں خبر دی۔ رستم نے اس سے پوچھا: وہ کیا کھاتے ہیں؟ اس نے بتایا کہ میں نے ان میں مکمل رات گزاری، اللہ کی قسم! ان میں کسی کو کچھ کھاتے نہیں دیکھا، سوائے اس کے کہ شام کے وقت، سوتے وقت اور صبح کے وقت وہ لوگ لکڑیاں چباتے ہیں۔ چنانچہ رستم جب وہاں سے اور آگے بڑھ کر نہر عتیق[1] کے درمیان پڑاؤ ڈال رہا تھا، اس نے سعد رضی اللہ عنہ کے مؤذن کو اذان کہتے سنا، اس نے سمجھا کہ شاید مسلم فوج جنگ کا بگل بجا رہی ہے۔ اس نے اپنی فوج میں اعلان کر دیا کہ گھوڑوں پر فوراً سوار ہو جاؤ، فوجی افسران نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا: کیا تم اپنے دشمن کو نہیں دیکھتے ان میں جنگ کا بگل بج گیا ہے اور وہ تمہاری طرف نقل وحرکت شروع کر دی ہے۔ جاسوس نے یہ سن کر کہا: یہ جنگ کا بگل نہیں بلکہ انہیں نماز کے لیے اکٹھا کرنے والی آواز ہے۔ رستم نے جواب دیا: نہیں، میں نے صبح ایک آواز سنی، وہ عمر کی آواز تھی، جو کہ درندوں سے بات کر رہے تھے اور انہیں عقل سکھا رہے تھے۔[2] پھر فارسی فوج نے نہر پار کی اور جب اس پار پہنچے تو سعد رضی اللہ عنہ کے مؤذن نے ظہر کی نماز کے لیے اذان دی اور سعد رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی اور رستم نے یہ دیکھ کر کہا: عمر نے میرا کلیجہ کھا لیا۔[3] اسلامی لشکر کا حوصلہ بلند کرنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ممتاز مسلم سرداروں اور افسروں کو معرکہ کے اول دن اپنے پاس بلایا اور کہا: جاؤ، آپ لوگ اپنی اپنی جگہ پر اپنی ذمہ داریاں نبھاؤ، عربوں میں تمہارا جو مقام و مرتبہ ہے اسے تم بخوبی جانتے ہو، تم عرب کے نامور شعراء، خطیب، دانش ور، بہادر اور سردار ہو۔ فوج میں جاؤ انہیں سمجھاؤ اور جنگ پر ابھارو۔ چنانچہ وہ لوگ فوج میں گئے۔ [4]قیس بن ہبیرہ اسدی نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اے لوگو! اللہ کا شکریہ ادا کرو کہ اس نے تم کو ہدایت سے نوازا اور اسی راستے میں آزما رہا ہے، وہ تمہاری قوت کو بڑھا دے گا۔ اللہ کے احسانات کو یاد کرو، اپنے کردار وعمل سے اسی کی رضا مندی تلاش کرو، بے شک تمہارے آگے جنت ہے، یا مال غنیمت اور اس محل کے پیچھے کشادہ میدان، سنگلاخ زمین، پہاڑوں کے طویل سلسلے، بیابانوں اور جنگلات کے علاوہ کچھ نہیں ہے انہیں دشمن کے راہنما کبھی طے نہیں کر سکتے، اور غالب بن عبداللہ لیثی نے کہا: اے لوگو! اپنی اس آزمائشِ الٰہی پر اللہ کی تعریف کرو، اس سے مدد مانگو، وہ تمہاری قوت بڑھا دے گا، اس کو پکارو وہ تمہیں زندگی وقوت عطا فرمائے گا۔ اے معد کی جماعت! آج تم کیوں کمزور نظر آتے ہو جب کہ تم محفوظ ہو، یعنی [1] تاریخ الطبری: ۴/ ۳۵۸۔ [2] التاریخ الإسلامی: ۱۰/ ۳۴۷۔