کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 628
’’ہم زبورمیں پند ونصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے (ہی) ہوں گے۔‘‘ بے شک (فارس کی یہ زمین) تمہاری میراث ہے اور تمہارے رب کا وعدہ ہے۔ اللہ نے گذشتہ تین سالوں سے اس خطے کو تمہارے لیے حلال و ہموار کر دیا ہے، اپنے جانباز مجاہدین کی بدولت تم اس سے آج تک کھاتے کھلاتے ہو، اس سر زمین کے باشندوں کو قتل کر رہے ہو اور انہیں لونڈی وغلام بنا رہے ہو۔ دیکھو یہ جمعیت تمہارے لیے آئی ہے اور تم معززین سرداران عرب ہو، اپنے اپنے قبیلہ کے منتخب فرد ہو، جو تمہارے پیچھے ہیں انہیں تم پر ناز ہے، اگر تم دنیا کو ٹھکرا کر آخرت کو پسند کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا وآخرت دونوں سے نوازے گا، لیکن اگر تم نے بزدلی اور پست ہمتی سے کام لیا تو تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور تمہاری عافیت برباد ہو جائے گی۔‘‘ پھر آپ نے علم بردار امرائے لشکر کو لکھا کہ: ’’خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو میں نے اپنا نائب امیر بنا دیا ہے، اگر مجھے تکلیف نہ ہوتی اور پھوڑے پھنسیاں نہ ہوتیں تو یہ فرض میں خود سرانجام دیتا۔ تم دیکھ رہے ہو کہ شدت درد سے میرا سر سینے پر جھکا ہوا ہے، لہٰذا تم ان کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو، وہ میرے حکم ہی سے تم کو کوئی حکم دیں گے اور میری ہی بات کو نافذ کریں گے۔‘‘ آپ کا یہ تحریری پیغام لوگوں کو سنایا گیا تو سب لوگ مطمئن ہوگئے اور خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کی باتوں پر متفقہ طور سے عمل کرنے لگے، بلکہ ان کے حکم کی بجا آوری کے لیے ایک دوسرے کو ابھارنے بھی لگے۔ سعد رضی اللہ عنہ کی مجبوری ومعذرت کو سب نے قبول کیا اور ان کے فیصلہ کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا۔[1] اب سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ ’’قصر قدیس‘‘ پر تنہا ہیں وہ غیر محفوظ مقام پر ہے اور وہیں سے میدان جنگ کا جائزہ لے رہے ہیں، پس آپ کی شجاعت و بہادری کی یہ ایک واضح دلیل ہے اور فی الواقع آپ دلیر تھے بھی، چنانچہ عثمان بن رجاء سعدی سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے زیادہ دلیر اور بہادر تھے، وہ مسلمانوں اور مشرکوں کے دو لشکروں کے درمیان غیر محفوظ مقام پر واقع ایک محل میں ٹھہرے ہوئے تھے اور وہیں سے لوگوں کی نگرانی کر رہے تھے، اگر اونٹنی کا دودھ دوہنے تک کے معمولی لمحہ کے لیے مسلمانوں کی صف ان کی آڑ سے ہٹ جاتی تو دشمن (انہیں قتل کرنے کے بعد) اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا۔ اللہ کی قسم! اس دن کی ہولناکی نے سعد رضی اللہ عنہ کو نہ تو رنجیدہ کیا اور نہ بے چین۔[2] اذان سن کر رستم کی گھبراہٹ: رستم نے جب نجف میں پڑاؤ ڈالا تو مسلمانوں کے لشکر میں اپنا ایک جاسوس بھیجا وہ قادسیہ میں آکر مسلمانوں میں اس طرح گھل مل گیا جیسے کہ انہی کا ایک فرد ہو، اس نے مسلمانوں کو دیکھا کہ ہر نماز کے وقت [1] تاریخ الطبری: ۴/ ۳۵۶۔ [2] تاریخ الطبری: ۴/ ۳۵۶۔