کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 627
سے ’’ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔‘‘پڑھتے رہیں۔ یہ معرکہ چار روز تک جاری رہا۔ اس وقت سعد رضی اللہ عنہ عرق النساء کے مریض تھے اور ان کے جسم میں پھوڑے پھنسیاں نکلی ہوئی تھیں جس کی وجہ سے آپ سواری کرنے اور بیٹھنے کے لائق نہ تھے۔ اس لیے قادسیہ میں واقع ایک محل جسے ’’قصر قدیس‘‘ کہا جاتا تھا، وہیں سے سینے کے بل تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے میدان جنگ پر نگاہ رکھے ہوئے تھے اور فوجی افسران تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر کیا تھا۔ آپ نے فوج میں یہ اعلان کروانے کا حکم دیا کہ: سن لو! حسد نہیں جائز ہے مگر دین الٰہی کے راستے میں جہاد کے لیے، اس لیے اے لوگو! جہاد کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھ نکلنے اور دوسرے کو مات دینے کی کوشش کرو۔[1] جنگ شروع ہونے سے کچھ پہلے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے قائم مقام خالد بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کی نیابت کے بارے میں لوگوں کا اختلاف ہوگیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر کہا: مجھے اٹھاؤ اور لوگوں کے روبرو کرو۔ چنانچہ لوگوں نے آپ کو اٹھایا، مسلمانوں کی فوج ’’قصر قدیس‘‘ کی دیواروں کے پاس کھڑی تھی، آپ وہاں سے سر نکال کر خالد رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے اور خالد رضی اللہ عنہ فوج تک وہ بات پہنچاتے، اس نازک موقع پر جن لوگوں نے خالد رضی اللہ عنہ کے خلاف آواز اٹھائی تھی ان میں بعض اہم لوگ بھی شریک تھے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں سخت سزا دینے کا ارادہ کیا۔ وہ بہت ناراض ہوئے اور فرمایا: سنو! اللہ کی قسم! اگر آج تمہارا دشمن تمہارے سامنے نہ ہوتا تو میں تم کو ایسی سزا دیتا جو دوسروں کے لیے بھی تازیانہ عبرت ہوتا۔ پھر آپ نے ان لوگوں کو قید کرا دیا، انہی لوگوں میں ابو محجن ثقفی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان سب کو آپ نے محل میں قید کرایا۔ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اطاعت امیر کی تائید میں کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی کہ جس شخص کو بھی اللہ تعالیٰ اس دین کی ذمہ داری دے گا اس کی بات سنوں گا اور فرماںبرداری کروں گا، خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو اور سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر دوبارہ کسی نے ایسی حرکت کی کہ مسلمانوں کو ان کے دشمن سے غافل کر کے اندرونی اختلافات کو ہوا دی حالانکہ وہ دشمن کے مقابلہ میں ہوں تو میں اس کے ساتھ وہ سلوک کروں گا کہ میرے بعد آنے والوں کے لیے ایک مثال بن جائے گا۔[2] فوج کے اندر ایسی اندرونی بدمزگی کو دیکھ کر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کسی طرح خطبہ دینے کھڑے ہوئے، اللہ کی حمدوثنا بیان کی اور فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ حق ہے، اس کی بادشاہت میں کوئی شریک نہیں، اس کا فیصلہ ایک اٹل حقیقت ہے اور اس نے اپنی کتاب قرآن میں فرمایا ہے: ﴿وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُوْنَ(الانبیاء: ۱۰۵) [1] الفن العسکری الإسلامی، ص: ۲۵۵۔