کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 622
انہوں نے اپنے ہی ہم وطنوں کی لوٹ مار کی، شراب نوشی سے بدمست ہو کر عورتوں کی عزت وناموس کو پامال کیا، چنانچہ برس کے لوگوں نے رسم سے فوج کی ان نازیبا حرکتوں کی شکایت، اس نے اپنی افواج کو مخاطب کر کے کہا: اللہ کی قسم! عربی نے جو کچھ کہا تھا سچ کہا تھا۔ یقینا ہم کو ہمارے اعمال ہی نے ذلیل کیا ہے۔ بے شک ان بستی والوں کے ساتھ عربوں کا برتاؤ اگرچہ وہ جنگ کرنے آئے ہیں تم سے بہت اچھا ہے۔[1] دوسری طرف جب مسلمانوں کے سپہ سالار سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو رستم کی فوجی پیش قدمی کی خبر ملی تو آپ نے عمرو بن معدیکرب زبیدی اور طلیحہ بن خویلد اسدی کو دس آدمیوں کے رسالے کے ساتھ دشمن کی جاسوسی کے لیے بھیج دیا، ابھی یہ لوگ کچھ ہی دور گئے تھے کہ دیکھا دشمن کا لشکر ساحلی علاقوں میں پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے۔ طلیحہ کے علاوہ باقی لوگ وہیں سے واپس لوٹ آئے، لیکن وہ رفتہ رفتہ آگے بڑھتے گئے، دشمن کی فوج میں گھس کر بھیس بدل کر جاسوسی کی اور واپس آکر سعد رضی اللہ عنہ کو دشمن کی پوری نقل وحرکت سے آگاہ کیا۔ یاد رہے کہ یہی وہ طلیحہ ہیں جو فتنہ ارتداد کے موقع پر مرتدین کے قائدین میں سے تھے۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صدیقی سیاست سے ہٹ کر ارتداد سے توبہ کرنے والے ان جیسے لوگوں سے متعلق یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایسے لوگ دوبارہ مسلمان ہو جانے کے بعد جہاد میں شرکت کر سکتے ہیں۔ البتہ یہ امارت و قیادت کے مستحق نہ ہوں گے اور آپ نے کبھی ایسے لوگوں کو منصب عطا نہیں کیا، بلکہ ان کے بارے میں اس بات کے حریص رہے کہ وہ لوگ ایمان و تقویٰ کی روحانی تربیت پائیں اور اسی لیے آپ نے انہیں قیمتی موقع بھی فراہم کیا کہ اس میں اپنے ایمان و تقویٰ کی صداقت پیش کر سکیں۔ چنانچہ عراق وفارس کی جنگوں میں طلیحہ اسدی اور عمرو زبیدی نے مثالی کارنامے انجام دیے۔ رستم کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ وفد بھیجتے ہیں: رستم حیرہ سے اپنی فوج لے کر آگے بڑھا اور قادسیہ کے پل ’’عتیق‘‘ کے پاس مسلمانوں کی فوج کے سامنے پڑاؤ ڈالا، دونوں افواج کے درمیان نہر حائل تھی، فارسی فوج کے ساتھ تیس (۳۰) ہاتھی تھے۔ جب رستم قادسیہ پہنچا تو اس نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ میرے پاس ایک آدمی بھیجو، ہم کچھ باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ سعد رضی اللہ عنہ نے اس کے پاس ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ کو اپنا قاصد بنا کر بھیجا۔ جس وقت ربعی رضی اللہ عنہ رستم کے پاس پہنچے وہ مرصع تخت زریں گاؤ تکیہ اور فرش دیبا پر بیٹھا ہوا تھا۔ ربعی رضی اللہ عنہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر وہاں پہنچے۔ انہوں نے اپنی تلوار چتھڑے میں لپیٹ لی تھی، نیزہ پٹیوں سے باندھ لیا تھا اور جب شاہی ریشمی فرش کے پاس پہنچے تو اس پر اپنا گھوڑا چڑھا دیا اور گھوڑے سے اتر کر دوگاؤ تکیہ میں اسے باندھ دیا، پھر گھوڑے کے پالان کو کندھے پر ڈال کر آگے بڑھے۔ درباریوں نے ہتھیار رکھوا لینا چاہا تو ربعی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اپنی مرضی سے آیا ہوتا تو سب [1] البدایۃ والنہایۃ: ۷/۴۳۔