کتاب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 617
فوج کے مورچوں اور اپنے اور مدائن کے درمیانی شہروں کے حالات اس تفصیل سے لکھو کہ گویا وہ میری آنکھوں کے سامنے ہیں اور اپنے حالات کو واضح طور پر مجھ سے بیان کرو، اللہ سے ڈرتے رہو، اسی سے فتح کی امید رکھو اور اپنی تیاری یا طاقت پر غرور نہ کرو، تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ نے تمہاری فتح کا ذمہ لیا ہے اور اس کا وعدہ کیا ہے، وہ اپنے وعدہ کے کبھی خلاف نہیں کرتا۔ کوئی بات ایسی نہیں ہونی چاہیے جس کی پاداش میں وہ تمہیں فتح سے محروم کر دے اور تمہارے بجائے کسی دوسری قوم کو اپنی عنایات کا مستحق بنا لے۔‘‘[1] اس خط میں سیّدناعمر رضی اللہ عنہ دل کی حفاظت واصلاح کا حکم دیتے ہیں، کیونکہ دل ہی جسم کا وہ حصہ ہے جو تمام اعضاء کو حرکت میں لاتا ہے، اور تمام اعضاء اسی کے ماتحت ہیں، پس اگر دل درست ہے تو پورا جسم درست ہو گا۔ پھر اپنی فوج کو نصیحت کرنے، اس میں تعلق باللہ اور خلوص وللہیت کا آغاز کرنے اور خوشنودی الٰہی کا طلب گار ہونے پر ابھارتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ انہی اسباب پر اللہ کی نصرت و تائید منحصر ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ کو خبردار کرتے ہیں کہ اپنی موجودہ ذمہ داری یا مستقبل کی فتوحات میں کوتاہی اور انتہا پسندی سے باز رہیں اور فوج اللہ کی اطاعت وخوف سے غافل نہ ہو، کیونکہ ان کی قوت کا اصل سبب اللہ کی توفیق و تائید ہے۔ امیر لشکر کو بھی چاہیے کہ اللہ سے خائف رہے اور اس کے احسانات وغیبی امداد کا منتظر اور پر امید رہے، اس لیے کہ یہ توحید کا بہت اونچا مقام ہے۔ امیرالمومنین، سعد رضی اللہ عنہ کو تنبیہ کرتے ہیں کہ خبردار کسی نیک عمل پر یا لوگوں کی تعریف سن کر غرور و تکبر سے پھول نہ جانا کہ اللہ کی شان میں گستاخی کرو، انہیں اللہ کا وعدہ یاد دلاتے ہیں کہ اس نے اسلام اور مسلمانوں کی مدد اور کفر وطاغوت کے اقتدار کے زوال کا وعدہ کیا ہے۔ نصرت الٰہی کے جو اسباب ہیں انہیں حاصل کرنے میں قطعاً کوئی سستی نہ ہو، کہ اللہ کی مدد سے محرومی ہو اور وہ دوسروں کو ان پر مسلط کر دے اور یہ کام اللہ تعالیٰ اپنے دوسرے بندوں سے لے۔[2] ۹: سعد رضی اللہ عنہ کا قادسیہ کے جغرافیائی محل وقوع اور وہاں کے حالات سے امیرالمومنین کو آگاہ کرنا اور سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کا جوابی خط: سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے قادسیہ پہنچ کر سیّدناعمر رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا، جو علاقہ فیصلہ کن جنگ کے لیے میدان کارزار بن سکتا تھا اس کے جغرافیائی حالات سے آپ کو مطلع کیا اور لکھا کہ: ’’سواد عراق کے باشندے جنہوں نے پہلے مسلمانوں سے مصالحت کی تھی وہ پھر ایرانیوں سے جا ملے ہیں اور ہمارے خلاف جنگ کو تیار ہیں، ہم سے مقابلہ کرنے کے لیے ان کی فوجی کمان رستم اور اس جیسے دیگر ممتاز فوجی افسران کے ہاتھوں میں ہے۔ وہ پورے لاؤ لشکر سے حملہ کر کے ہمارے دلوں کو دہلانے اور ہمیں پیچھے دھکیلنے کی کوشش میں ہیں اور ہم انہیں مرعوب کرنے اور ان پر غالب آنے کی کوشش میں ہیں۔ اللہ کا جو فیصلہ ہو گا وہ ہو کر رہے گا۔ ہم اس کے ہر فیصلہ پر خواہ [1] التاریخ الإسلامی: ۱۰/ ۳۷۹۔